مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 299 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 299

مضامین بشیر جلد چهارم 299 اور انصاف کے ترازو کو پوری طرح قائم رکھتے تھے۔اس طرح ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مکاشفہ بھی پورا ہوا کہ۔”اس نے قاضی بننا ہے“ میاں شریف احمد صاحب کی زندگی میں عسر وئیر کے متعدد دور آئے اور ہر دور میں انہوں نے اپنا شاہانہ مزاج قائم رکھا۔وہ دل کے درویش تھے مگر مزاج کے بادشاہ تھے۔ٹیسر کی حالت کا تو کیا کہنا ہے عسر میں بھی وہ اپنے شاہانہ مزاج کو قائم رکھتے تھے اور اپنے ہاتھ کونگی کے ایام میں بھی روکتے نہیں تھے اور غرباء کی مدد میں بھی بڑی فیاضی سے حصہ لیتے تھے۔بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ انہوں نے رستہ چلتے ہوئے کسی غریب کو پاس سے گزرتے دیکھا تو جھٹ جیب میں سے سوروپے کا نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔لینے والا حیرانی میں مبتلا ہو کر اپنی آنکھیں ملتارہا اور یہ درویش بادشاہ خاموشی سے آگے نکل گیا۔اپنے خرچ پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے وہ بسا اوقات قرض میں بھی مبتلا ہو جاتے تھے مگر ان کی شاہ خرچی کے انداز میں کبھی فرق نہیں آیا۔ساری عمر اسی شاہانہ ڈگر پر قائم رہے۔غالبا ان کی ولادت کے موقع پر خدائی فرشتوں نے آسمان پر ان کی آئندہ زندگی کا نظارہ دیکھ کر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کانوں میں یہ خدائی الفاظ پہنچائے ہوں گے کہ وہ بادشاہ آتا ہے" دراصل یہ چاروں الہام جو اوپر درج کئے گئے ہیں عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی ذاتی زندگی اور ذاتی سیرت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نازل ہوتے تھے مگر تعجب نہیں کہ آگے چل کر ان کی نسل میں ان مکاشفات کے بعض ظاہری پہلو بھی رونما ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی بات خدا کی طرف سے ظاہر کی جاتی ہے وہ بعض اوقات اس کی بجائے اس کی اولا دیا نسل میں پوری ہوتی ہے جیسا کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں دیکھیں مگر آپ ان کنجیوں کے ملنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے اور یہ کنجیاں آپ کے خلفاء اور روحانی فرزندوں کے ہاتھ میں آئیں۔یا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کے ہاتھ میں جنت کے انگوروں کا خوشہ دیکھا مگر ابو جہل کفر کی حالت میں ہی مر گیا اور یہ بشارت اس کے لڑکے حضرت عکرمہ میں پوری ہوئی۔یا جیسا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مکہ فتح ہوا ہے اور حضور نے مکہ کا انتظام اسیر کے سپر د کیا ہے مگر اسیر آپ کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا اور آپ نے مکہ فتح ہونے پر اس کے بیٹے عتاب بن اسیر کو مکہ کا حاکم مقرر کیا۔یہ قدرت خداوندی کے عجائبات ہیں جن سے روحانی دنیا معمور نظر آتی ہے اور خدا اپنے مصالح کو بہتر سمجھتا ہے۔