مضامین بشیر (جلد 4) — Page 287
مضامین بشیر جلد چہارم 287 عمارت کے بقیہ حصہ کی تکمیل اور لائبریری کے قیام کے لئے دل کھول کر چندہ دیں گے اور ہر طبقہ کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں علم دین حاصل کرنے کے لئے جامعہ میں بھجوائیں گے تا کہ یہ ادارہ ایک اعلیٰ درجہ کی درس گاہ بن سکے، فرمایا: میں ان الفاظ کے ساتھ جامعہ احمدیہ کی نئی عمارت کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جامعہ کو بہت بلند پایہ علماء پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایسے جید علماء جو اپنے علم وفضل کی وجہ سے دنیا پر چھا جائیں اور جو غلبہ اسلام کی خدائی تقدیر کو جاری کرنے کا مؤثر اور کامیاب ذریعہ اور نہایت مفید آلہ کار ثابت ہوں تا وہ عظیم مقصد جس کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ادارہ کو قائم فرمایا تھا ہمیشہ ہی مہتم بالشان طریق پر پورا ہوتا چلا جائے اس پر اثر اور ایمان افروز خطاب کے بعد آپ نے ایک لمبی اور پُر سوز اجتماعی دعا کرائی۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ جامعہ احمدیہ کی نئی عمارت کا افتتاح عمل میں آیا۔تقسیم انعامات افتتاحی تقریر کے بعد جامعہ احمدیہ کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات کی کارروائی عمل میں آئی۔چنانچہ حضرت میاں صاحب نے مختلف علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں نمایاں امتیاز حاصل کرنے والے طلبہ میں اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمانے کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں جامعہ احمدیہ کے طلباء کو اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کا ایک اقتباس یاد دلانا چاہتا ہوں۔میں جب بھی اس اقتباس کو پڑھتا ہوں تو ڈر کر رک جاتا ہوں اور ساتھ ہی خوشی سے پھول بھی جاتا ہوں۔وہ اقتباس یہ ہے کہ: ”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ وہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے“ ہمارے طلبہ کو کو یہ بلند مقصد ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔وہ علم و فضل میں ایسا کمال حاصل کریں کہ آسمان کی بلندیوں میں پرواز کریں اور اس قدر اونچے نکل جائیں کہ کوئی زمین ان تک نہ پہنچ سکے اور وہ سب کا منہ بند کر دیں۔یہ مقصد پورا تو ضرور ہوگا اور ہو کر رہے گا لیکن جیسا کہ خدا کا یہ قانون ہے کہ اس کی تقدیروں کے بروئے کار آنے میں ایک خانہ انسانی کوششوں کا بھی ہوتا ہے۔میں طلبہ کو انسانی کوششوں کے اس خانہ کی طرف