مضامین بشیر (جلد 4) — Page 284
284 مضامین بشیر جلد چهارم جب ان کی طرف کوئی بات منسوب کر کے بیان کی جائے تو دوست و دشمن یقین کر لیں کہ یہ بات بہر حال کچی ہوگی۔الغرض دیانتداری اور راست گفتاری اور خوش خلقی ہر احمدی کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے۔ایک آخری خلق جس پر میں اس وقت انصار اللہ کے لئے خاص زور دینا چاہتا ہوں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں مذکور ہے کہ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعُ فَبِقَلْبِهِ وَ ذَالِكَ أَضْعَفُ الْإِيْمَانِ مصنف عبدالرزاق کتاب صلاة العيد بين باب اول من خطب ثم صلی) یعنی جو شخص کسی نا پسندیده یا خلاف اخلاق یا خلاف شریعت بات کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس بات کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔لیکن اگر ایسا کرنے کی اسے طاقت نہ ہو تو زبان سے اس کے متعلق اصلاح کی کوشش کرے اور اگر اسے یہ طاقت بھی حاصل نہ ہو تو کم از کم اسے بُرا سمجھ کر اپنے دل میں ہی ( دعا کے ذریعہ ) اصلاح کی کوشش کرے۔اگر ہمارے تمام انصار بھائی اس ارشاد نبوی کو اپنا شعار بنائیں تو ان کے ماحول میں عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے اور بدی کبھی جڑ نہیں پکڑ سکتی۔اور نہ ہی نوجوانوں کے اخلاق خراب ہو سکتے ہیں۔بدی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا اور بے حس و حرکت رہ کر خاموش رہنا قوموں کی تباہی کا موجب ہوتا ہے۔بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مبارک ارشاد پر اپنے اس خطاب کو ختم کرتا ہوں حضور فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں: یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے، بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخ بدر فیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بداثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنی ادنی خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے ہے۔شخص