مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 283 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 283

مضامین بشیر جلد چهارم 283 بن جاتا ہے۔اس کی زبان میں غیر معمولی تاثیر ہوتی ہے اور اس کا قلم جادو کا اثر دکھاتا ہے۔پس اگر آپ لوگ تحریر و تقریر میں ملکہ پیدا کر کے اس میدان میں خدمت کے لئے نکلیں تو آپ کے لئے بہت بڑے ثواب کا موقع ہے۔جس انسان میں یہ جو ہر موجود ہے مگر وہ اسے استعمال نہیں کرتا وہ یقینا بڑے گھاٹے کے سودے میں ہے۔اس کام کے کرنے کا بہترین طریق یہ ہوگا کہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق مرکزی مجلس انصار اللہ کی طرف سے گاہے گا ہے ایسے مضامین کا اعلان کیا جاتا رہے جن پر تحقیقی مقالے لکھنے کی ضرورت ہے۔بلکہ اگر ممکن ہو تو ان کتب وغیرہ کا بھی ذکر کر دیا جائے جن سے متعلقہ مضمون کی تیاری میں مددمل سکتی ہو۔اس طرح لکھنے والوں کے دل میں مزید تحریک پیدا ہوگی اور وہ بہتر تیاری کر سکیں گے۔اس موقع پر ایک خاص بات جس کی طرف میں مرکزی مجلس انصار اللہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ انہیں فی الحال ربوہ اور لاہور اور کراچی میں سالانہ سیمینار یعنی مجالس مذاکرہ جاری کرنے کے انتظام پر غور کرنا چاہئے۔یہ تینوں مقامات ایسے ہیں جہاں ایسی مجالس مذاکرہ کے انتظام بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اور ان جگہوں میں انتظام کرنے والے مناسب دوست بھی آسانی سے مل سکتے ہیں۔فی الحال سال میں ہر جگہ ایک مجلس مذاکرہ کا قیام کافی ہوگا جسے بعد میں حسب حالات بڑھایا جا سکتا ہے۔کوئی قرآنی موضوع یا ارض قرآن کا جغرافیہ یا اقوام مذکورہ قرآن یا اسلام کی تاریخ یا تعلیم یا اسلامی فقہ و حدیث یا جدید پیدا شدہ تقاضوں سے تعلق رکھنے والا کوئی مضمون منتخب کر کے مقرر کر لیا جائے اور اس پر عملی مذاق رکھنے والے لوگوں کو دعوت دے کر دوستانہ تبادلہ خیالات کیا جائے۔ایک یا دو اصحاب مقالہ پڑھیں اور اس پر دوستانہ رنگ میں گفتگو ہوتا کہ صیح نتائج پر پہنچنے میں مدد ملے اور معلومات میں اضافے کے ذریعہ دماغوں میں روشنی پیدا ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسی مجالس مذاکرہ انشاء اللہ کئی لحاظ سے مفید اور بابرکت ثابت ہوں گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا رستہ کھلے گا کہ میری جماعت کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ سب دوسری قوموں کا منہ بند کر دیں گے۔ایک اور بات میں اپنے بھائیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصار اللہ کو اپنے ممبروں میں بلند کیریکٹر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دینی لحاظ سے وہ اسلام اور احمد بیت کا اعلیٰ نمونہ ہوں اور نہ صرف ان کے راحمدیت اعمال سے اسلام کا نور نظر آئے بلکہ ان کے ماتھوں پر بھی گویا اسلام کا لفظ لکھا ہوا دکھائی دینا چاہئے۔ان کے ہاتھوں سے تمام دوسرے لوگوں کی عزتیں اور مال محفوظ رہیں۔ان کی زبانوں سے محبت اور اخلاص کا شہد ٹپکے اور ان کے کاروبار میں دیانتداری کا پہلو اتنا نمایاں نظر آئے کہ وہ دیانت وامانت کا مجسمہ سمجھے جائیں۔اور