مضامین بشیر (جلد 4) — Page 278
مضامین بشیر جلد چهارم 278 ذمہ داریوں کو شمار کرنا اور انہیں نیکی کی طرف بلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔خدام الاحمدیہ کے فرائض تو وقتاً فوقتا خلیفہ وقت کی طرف سے معین کئے جاتے ہیں اور خدام الاحمدیہ کا نام بھی ان کے فرائض کی تعیین کرنے کے لئے کافی ہے۔مگر انصار اللہ کی اصطلاح اتنی وسیع اور اتنی ہمہ گیر ہے کہ اس کی تشریح کرنا ایک بہت مشکل امر ہے۔انصار اللہ کے معنے ہیں” خدا کے مددگار اور چونکہ خدا ایک غیر محدود ہستی ہے اور اس کی صفات بھی غیر محدود ہیں اور اس کا کام بھی غیر محدود ہے اس لئے انصار اللہ کے کام کا دائرہ بھی حقیقتاً غیر محدود ہے۔حق یہ ہے کہ جو جو کام خدا دنیا میں اپنے رسولوں کے ذریعہ لینا چاہتا ہے وہ سب انصار اللہ کے دائرہ عمل میں آتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی ایسی صفات ہیں جن کا اس دنیا کے نظام کے ساتھ تعلق ہے ان سب میں انصار اللہ کوخدا کا مظہر بنا چاہئے۔اس کے بغیر کوئی شخص کامل طور پر انصار اللہ نہیں کہلا سکتا۔مگر میں اس جگہ مخصوص طور پر اس مقصد کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے لئے ہمارے آقاو سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث کئے گئے کیونکہ یہی انصار اللہ کا حقیقی کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس بلند و بالا مقصد کا اہل بنائیں جو ان مقدس ہستیوں کی بعثت میں مرکوز ہے اور نہ صرف اپنے آپ کو اس کا اہل بنائیں بلکہ حکیمانہ تبلیغ وتلقین اور عمدہ تربیت کے ذریعہ دوسروں کے اندر بھی اس مقصد کی اہلیت پیدا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ ( الجمعه : 3) یعنی ہمارا یہ رسول لوگوں کو خدائی احکام وفرائض کی تعلیم دیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اُن کو ان احکام کی حکمت اور ان کا فلسفہ بھی سکھاتا ہے اور ان کے اندر طہارت اور پاکیزگی اور تقویٰ پیدا کرتا ہے اور ان کی ترقی کے سامان مہیا فرماتا ہے۔یہ وہ عظیم الشان مقصد ہے جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے گئے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں انصار اللہ نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرے۔وہ دین کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔وہ دینی احکام کی حکمت اور فلسفہ کو سکھے اور دوسروں کو سکھائے۔وہ اپنے نفس کو ہر قسم کی اخلاقی اور روحانی کمزوریوں سے پاک کرے اور یہی پاکیزگی دوسروں میں بھی پیدا کرے اور بالآخر وہ ترقی کے ان تمام سامانوں کو مہیا کرے جو گری ہوئی قوموں کو اوپر اٹھانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ تزکیہ کے معنے صرف پاک کرنے کے ہی نہیں ہیں بلکہ ترقی دینے اور اوپر اٹھانے کے بھی ہیں۔اس لئے