مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 275 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 275

مضامین بشیر جلد چہارم 275 احمدی کر لیں مگر وہ پکے اور سچے مسلمان نہ ہوں تو ایسے لوگوں کا ہمیں چنداں فائدہ نہیں بلکہ اس قسم کے لوگ اسلام اور احمدیت کی بدنامی کا موجب ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر تعداد تو تھوڑی ہو مگر مسلمان ہونے والے یا احمدی بننے والے پکے اور مخلص ہوں تو خدا کے فضل سے اس قسم کی تھوڑی تعداد بھی بڑی طاقت کا موجب ہو سکتی ہے اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ باذن اللهِ (البقره: 250) یعنی کتنے ہی تھوڑی تعداد کے لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے حکم سے ( یعنی اس کے احکام پر عمل کر کے ) بڑی بڑی تعداد والوں پر غالب آ جاتے ہیں۔پس تربیت کا سوال بڑا ضروری ہے اور بڑا اہم ہے اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ مدیرہ صاحبہ رسالہ ” مصباح “ نے اس کی طرف خاص توجہ دینے کا ارادہ کیا ہے۔خدا کرے کہ وہ اس ارادہ میں کامیاب ہوں اور احمدی ماؤں میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے بچوں میں اور خصوصاً اپنی لڑکیوں میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم بچپن کے زمانہ میں ہی ایسی راسخ کردیں کہ وہ اسلام کی جیتی جاگتی تصویر بن جائیں اور انہیں دیکھ کر لوگ خوش ہوں کہ اُن کے چہروں پر دینداری اور روحانیت کا نور نظر آتا ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ تربیت کا زمانہ بچے کی ولادت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔اسی لئے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے دائیں کان میں اذان کے الفاظ دُہرائے جائیں اور اُس کے بائیں کان میں اقامت کے الفاظ دُہرائے جائیں۔اس حدیث میں اذان ایمان کی قائم مقام ہے اور اقامت عمل کی قائم مقام ہے۔گویا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے ایمان اور عمل کی تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور ماں باپ کو شروع سے ہی اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔بعض والدین اس غلطی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پیدا ہونے والا بچہ تو گویا صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے اور بعد میں بھی وہ کئی سال تک دینی اور اخلاقی باتوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔مگر ایسا خیال کرنا بڑی غلطی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ غیر شعوری طور پر ولادت کے ساتھ ہی تاثر اور تاثیر کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور والدین کا فرض ہے کہ اسی زمانہ سے بچوں کی تربیت کا خیال رکھیں اور نگرانی شروع کر دیں۔آجکل علم النفس کی ترقی نے بھی یہی بات ثابت کی ہے جو ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے بظاہرامی ہونے کے باوجود عرب کے صحراء میں فرمائی تھی کہ بچہ کی ولادت کے ساتھ ہی اس کی تربیت کا انتظام کرو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو