مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 271 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 271

مضامین بشیر جلد چہارم 271 پیدا ہو وقار عمل کے ذریعہ فوراً آگے آجائیں اور اپنی ظاہری حیثیت اور اپنے سوشل مقام کو بھول کر مزدوروں کی طرح کام کریں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی موقعوں پر مسجدوں کی تعمیر میں یا جہاد کی کاروائیوں میں عام مزدوروں کی طرح کام کیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ انتہائی انکساری سے فرماتے ہیں کہ : میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شاملِ حال ہوا ہے۔پس اس خدائے قادر وکریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 410) پس جب ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سرور کونین اور شہنشاہِ دو عالم تھے اور ہمارے سالارِ قافلہ حضرت مسیح موعود جو حضور کے نائب اور مسیح محمدی تھے ایک مزدور کا لباس پہنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتے بلکہ اس خدمت کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں تو ہمیں جو آپ کے ادنی خدام ہیں خدا کے رستے میں خدمت خلق کے لئے بیلچہ ہاتھ میں لے کر اور مٹی کی ٹوکریاں سر پر اٹھا کر مزدور بننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے؟ بس اسی پر میں اپنے اس خطاب کو ختم کرتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس اجتماع کو دین ودنیا کے لحاظ سے بابرکت کرے اور آپ کا ربوہ میں چند دن کا قیام مفید نتائج پیدا کرنے والا ثابت ہو۔اور جب آپ یہاں سے واپس جائیں تو آپ کی جھولیاں خدا کے فضل اور رحمت سے بھری ہوئی ہوں۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (محررہ 20 اکتوبر 1961ء) ایک غلطی کا ازالہ روزنامه الفضل ربوہ مورخہ 4 نومبر 1961ء) خدام الاحمدیہ کے افتتاحیہ مقالہ میں ایک ضروری تفصیح میں نے جو افتتاحیہ مقالہ خدام الاحمدیہ کے مرکز یہ اجتماع میں 20 اکتوبر 1961 ء کور بوہ میں پڑھا تھا ( جوالفضل کی اشاعت مؤرخہ 4 نومبر میں چھپ چکا ہے) اس کے متعلق ایک دوست نے توجہ دلائی ہے کہ اس میں جو ابتدائی ناظروں کے نام بیان کئے گئے ہیں اور نیز نظارتوں کے قیام کی جو تاریخ لکھی گئی ہے اس