مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 272 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 272

مضامین بشیر جلد چهارم 272 میں کچھ غلطی واقع ہوگئی ہے۔سو یہ درست ہے کہ نظارتوں کا قیام 1921ء میں نہیں ہوا تھا بلکہ 1919ء میں ہوا تھا اس لحاظ سے میری عمر اس وقت ستائیس اٹھائیس سال کی بھی نہیں تھی بلکہ صرف پچیس سال کی تھی اور محترم درد صاحب مرحوم اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال مرحوم اور محترم سید ولی اللہ شاہ صاحب بالکل ابتدائی ناظروں میں شامل نہیں تھے بلکہ کچھ عرصہ بعد میں شامل کئے گئے تھے۔البتہ یہ خاکسار ابتدائی ناظروں میں شامل تھا اور میرے علاوہ حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم اور حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب مرحوم ناظر مقرر کئے گئے تھے مگر دوسرے نوجوان بھی جلد شامل ہو گئے تھے دراصل میر انشاء اس افتتاحیہ میں کسی واقعہ کی معین تاریخ بیان کرنا نہیں تھا بلکہ عمومی رنگ میں نو جوانوں کو خدمت دین کی تحریک کرنا اصل مقصد تھا اور یہ بھی درست ہے کہ اس مقالہ کے لکھنے کے وقت میرے ذہن میں سارے نام محفوظ بھی نہیں تھے۔بہر حال میں ان دوستوں کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے ایک تاریخی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔دوست یہ اصلاح نوٹ فرما لیں۔( محرره 10 نومبر 1961ء) روزنامه الفضل ربوہ مورخہ 12 نومبر 1961ء) حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کی بعض احباب سے ملاقاتیں یہ ایک حقیقت ہے کہ چونکہ احباب جماعت حضرت خلیفة البیع الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی علالت کی وجہ سے آج کل حضور کی ملاقات کا زیادہ موقع حاصل نہیں کرتے اس لئے طبعا اپنے اخلاص کی وجہ سے اس معاملہ میں کافی تشنگی محسوس کرتے ہیں اور اس بات کی آرزور رکھتے ہیں کہ حضور کی صحت کے متعلق روز مرہ کی مختصر طبی رپورٹ کے علاوہ کبھی کبھی انہیں حضور کی خاص خاص ملاقاتوں کے حالات بھی پہنچتے رہیں۔اس غرض کے ماتحت میں نے کچھ عرصہ ہوا جب حضرت صاحب نخلہ میں تشریف رکھتے تھے ایک چائے کی پارٹی کا ذکر کیا تھا جو محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے حضور کی فرودگاہ کے متصل باغ میں دی تھی اور حضور اس میں شامل ہو کر کافی وقت تک ایک کرسی پر تشریف فرما رہے تھے۔میرا یہ نوٹ الفضل میں