مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 7

مضامین بشیر جلد چهارم 7 صلح کی بنیاد قائم ہو جائے گی۔اور خیالات کے باہمی اختلاف بڑی آسانی اور بڑی خوش اسلوبی سے اور بڑی اچھی فضا میں طے پائیں گے۔خدا کرے کہ وہ دن جلد آئے اور دنیا ایک عالمگیر امن اور عالمگیر صلح کا نظارہ دیکھے۔آمین ( محرره 19 نومبر 1959ء) روزنامه الفضل ربوه 2 فروری 1960ء) حسن یوسف سید موسیٰ ، دم عیسی داری آں کہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری حضرت فخر رسل سید ولد آدم خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی طور پر بلند و بالا شخصیت اور آپ کے افاضۂ روحانی کی کثرت اور فراوانی اس قدر نمایاں اور ممتاز ہے کہ کوئی غیر متعصب شخص جس کے دل میں قدر شناسی کا جو ہر موجود ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا۔خدا کے فضل سے سارے انبیاء کرام ہی اپنی اپنی جگہ آسمان ہدایت پرستاروں کی طرح چمکتے ہیں اور بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام ”ماہمہ پیغمبراں را چا کریم۔مگر حق یہ ہے کہ حضرت سرور کائنات کی آفتابی روشنی کے سامنے ہر دوسری روشنی ماند پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔اور آپ کو یہ امتیاز دو جہت سے حاصل ہے۔اول یہ کہ آپ ہر روحانی کمال میں دوسرے نبی سے افضل وارفع ہیں۔اور دوسرے یہ کہ آپ کی روحانی تاثیر اور آپ کا افاضہ تمام نبیوں کے افاضہ سے وسیع تر اور قوی تر ہے۔اور آپ کو خدا نے زندگی بھی ایسی عطا کی جس میں آپ کو اپنے ہر فطری جو ہر کو بصورت کمال دکھانے کا موقع میسر آیا۔اور یہی اس شعر کا مطلب ہے جو میرے اس مختصر نوٹ کا عنوان ہے۔آپ کو یوسف کا حسن حاصل ہے مگر اپنی دلکشی میں یوسف سے بڑھ کر۔آپ کو موسی کا ید بیضا حاصل ہے مگر بدخواہ دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے میں موسی سے بڑھ کر۔آپ کو عیسی کا دم شفا حاصل تھا مگر بیماروں کو شفا دینے میں عیسی سے بڑھ کر۔اسی لئے آپ خاتم النبیین کے جلیل القدر اور عدیم المثال مقام پر فائز کئے گئے۔اور اپنے روحانی معراج میں سدرۃ المنتہی تک پہنچے جس تک کسی انسان اور کسی فرشتہ کی پہنچ نہیں۔اور آپ کو افاضہ بھی وہ عطا ہوا کہ آپ کی کچی پیروی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ انعام بخشنے کی طاقت رکھتی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ