مضامین بشیر (جلد 4) — Page 6
مضامین بشیر جلد چهارم 5 6 جلسه یوم پیشوایان مذاہب کلکتہ پر پیغام 6 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود مکرمی محتر می مولوی بشیر احمد صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ کلکتہ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کی تار در باره پیغام یوم پیشوایان مذاہب موصول ہوئی۔اس دن کے منانے کی تحریک ہماری جماعت کے موجودہ امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمائی تھی اور الحمد للہ کہ یہ یوم آج تک بڑی کامیابی اور غیر معمولی برکات کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ہماری جماعت کا یہ بنیادی عقیدہ ہے جو قرآنی احکام پر مبنی ہے کہ خدا صرف کسی مخصوص قوم کا خدا نہیں ہے بلکہ ساری دنیا بلکہ سارے نظامِ عالم کا خدا ہے۔اس لئے اس نے ہر ملک اور ہر قوم میں اپنے رسول اور اوتار اور مصلح بھیجے ہیں جو اپنے اپنے وقت پر اصلاح کا کام کرتے رہے ہیں۔اور قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ان سب پاکباز روحانی لوگوں کو عزت کی نظر سے دیکھیں۔چنانچہ ہم جس طرح اسلام کے بانی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور احمدیت کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا کا پیارا اور مقرب خیال کرتے ہیں۔اسی طرح ہندوؤں کے اوتار حضرت کرشن جی اور حضرت رام چندر جی اور بدھ مذہب کے بانی حضرت گوتم بدھ اور سکھ قوم کے بانی حضرت بابا نانک کو بھی خدا کا پیارا خیال کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان کی بڑی عزت ہے۔اسی طرح ہم یہودیوں کے حضرت موسقی اور عیسائیوں کے حضرت عیسی کو بھی اسی احترام اور عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔یہی وہ عقیدہ ہے جو دنیا میں حقیقی اتحاد اور اخوت کی بنیاد بن سکتا ہے۔اور باوجود بعض خیالات میں اختلاف کے اس بنیادی عقیدہ کی وجہ سے ہم اپنا فرض خیال کرتے ہیں کہ ساری مخلوق کو اپنا بھائی اور اپنے خدا کے بنائے ہوئے انسان سمجھ کر ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا سلوک کریں۔اس خیال کی بناء پر جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے قبل 1908ء میں ایک خاص پیغام کے ذریعہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو صلح کا پیغام دیا تھا۔جو پیغام مصلح کے نام سے چھپ چکا ہے، ایسی نوعیت کا ہے کہ جب بھی مختلف مذاہب کے متبعین پر اس پیغام کی صداقت اور اہمیت واضح ہوئی تو اس وقت انشاء اللہ تعالیٰ ایک عالمگیر