مضامین بشیر (جلد 4) — Page 266
مضامین بشیر جلد چہارم 266 اس وقت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت خدام الاحمدیہ مرکز یہ ربوہ کے اجتماع کے افتتاح کے لئے حاضر ہوا ہوں۔جیسا کہ شاید آپ صاحبان کو علم ہے میں ایسے اجتماعوں میں شرکت کا عادی نہیں ہوں اور علیحدہ بیٹھ کر تحریری خدمت بجالانے یا دفتر میں انتظامی فرائض ادا کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔مگر اس وقت امام کے حکم کے ماتحت اپنی طبیعت اور مزاج کے خلاف حاضر ہو گیا ہوں۔سب سے اول تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اس اجتماع سے غیر حاضری میرے دل میں بلکہ ہم سب کے دل میں ایک بے چین کرنے والی یاد پیدا کر رہی ہے۔کیونکہ خدام الاحمدیہ کے نظام کے بانی مبانی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہی تھے جنہوں نے تئیس سال ہوئے 1938ء میں اس مبارک نظام کی بنیاد رکھی جو خدا کے فضل سے نوجوانوں میں زندگی کی روح پھونکنے اور خدمت کا جذبہ پیدا کرنے اور اتحاد اور تعاون کا سبق دینے میں نہایت درجہ مؤثر اور کامیاب ثابت ہوا ہے۔پس سب سے پہلے میں حاضر الوقت خدام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آؤ اس وقت ہم سب مل کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی صحت کے لئے دعا کریں تا کہ خدا کے فضل سے حضور پھر پہلے کی طرح ایسے اجتماعوں میں شریک ہو کر اپنے روح پرور خطابوں سے احمدی نوجوانوں کو گرمایا کریں۔اس کے ساتھ ہی دوسری ضروری دعاؤں کو بھی شامل کر لیا جائے۔اس وقت سب حاضرین نے مل کر اجتماعی دعا کی ) اس کے بعد میں اپنے نوجوان عزیزوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی عمر کے اس دور کو غنیمت سمجھو۔بے شک عام حالات میں یہ عمر غفلت کی عمر سمجھی جاتی ہے مگر جو نو جوان اس عمر میں اپنے فرض کو پہچانیں اور اپنے ایمان اور اپنے عمل کو درست رکھیں اور جماعت اور اس کے نظام کے ساتھ پختہ طور پر منسلک رہ کر اپنے آپ کو اسلام اور احمدیت کے لئے مفید وجود بنا ئیں وہ یقیناً خدا کے فضلوں سے غیر معمولی حصہ پائیں گے۔ایک دفعہ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا مومن افضل ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا وہ شخص سب سے افضل ہے جس کی نوجوانی کی عمر تقویٰ اور دین داری میں گزرے۔پس عزیز و خوش ہو کہ آپ عمر کے اس دور میں ہیں جس میں آپ ذراسی کوشش اور تھوڑی سی توجہ سے بھاری افضلیت کا درجہ پاسکتے ہیں۔آپ کو یا درکھنا چاہئے کہ خلافت ثانیہ کا دور زیادہ تر نوجوانوں کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔کیونکہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی خدا کی مشیت کے ماتحت خلیفہ چنے گئے تو اس وقت آپ کی عمر صرف پچیس سال کی