مضامین بشیر (جلد 4) — Page 261
مضامین بشیر جلد چهارم 261 دوست دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ میری طرف سے مجوزہ حج بدل قبول فرمائے اور مجھے اس کے بہترین اجر سے نوازے۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ یکم اکتوبر 1961ء) روزنامه الفضل ربوہ 14اکتوبر 1961ء) 41 سیرت ابن ہشام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی رائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں ”سیرت ابن ہشام سب سے زیادہ قدیم ،سب سے زیادہ مستند اور سب سے زیادہ مفصل سوانح عمری ہے جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔اس کا اردو ایڈیشن حال میں نہایت نفاست کے ساتھ شائع ہوا ہے۔اس کتاب کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اپنے ایک گرامی تار میں حسب ذیل رائے کا اظہار فرماتے ہیں : سیرت ابن ہشام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں زمانہ کے لحاظ سے دوسرا درجہ رکھتی ہے۔پہلے درجہ پر امام زہری کا مجموعہ تھا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ترین زمانہ پایا تھا مگر ان کی تصنیف اب نہیں ملتی اس لئے سیرت ابن ہشام کو ہی اول درجہ حاصل ہے۔یہ کتاب بڑی مبسوط اور بڑی جامع ہے اور اس کی اکثر باتیں چشم دید روایات پر مبنی ہیں جنہیں مشہور مؤرخ ابن اسحاق نے جمع کیا تھا اور ان کی کتاب نا پید ہونے پر ابن ہشام نے اس مجموعہ کو دوام کی زندگی عطا کی۔ابن ہشام کی روایات بڑی مفصل اور بڑی جامع اور بڑی ہمہ گیر ہیں۔یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی ساری روایات درست ہیں مگر اس میں کلام نہیں کہ یہ ایک بڑی قابلِ قدر کتاب ہے۔آپ نے اس کتاب کو اردو میں پیش کر کے مسلمانوں پر اور اردو لٹریچر پر بڑا احسان کیا ہے۔جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔عبارت بہت سلیس اور سادہ اور با محاورہ ہے اور آپ کی طرف سے فٹ نوٹوں نے اس کتاب میں مزید خوبی اور دلکشی پیدا کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو سیرت ابن ہشام بہت پسند تھی۔حضور کی کتاب "فصل الخطاب“ کے اکثر واقعات ابن ہشام سے ماخوذ ہیں۔حضور نے اپنی ”سیرت ابن ہشام کے نسخے پر جابجا