مضامین بشیر (جلد 4) — Page 252
مضامین بشیر جلد چهارم 252 چاہئے بلکہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مقصد کی طرف جرات اور اعتماد کے ساتھ بڑھتے چلے جانا چاہئے۔البتہ حضور کی صحت کے لئے بھی درد دل سے دعا کرنی چاہئے۔ہمارا خدا شافی مطلق ہے اور اس نے اپنے رسول کی زبانی یہ بھی فرمایا ہے کہ لِكُلِّ دَاعِ دَواءٌ یعنی کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا کوئی علاج نہ ہو۔پس دوست دعا کریں اور کرتے رہیں کہ ہمارا آسمانی آقا اپنے فضل سے ڈاکٹروں کو اس دوا کی طرف راہنمائی فرمائے جس میں ہمارے امام کے لئے شفا ہو اور حضور کی بیماری کے ایام میں جماعت کو ہر قسم کی کمزوری سے بچا کر رکھے اور مخالفوں کو ہدایت دے کہ وہ گند اُچھالنے سے پر ہیز کریں یا اپنی قدرت نمائی سے ان کے منہ بند کر دے کیونکہ خدا کو سب قدرت حاصل ہے۔بس اس کے سوا اور اس کے بعد میں اس معاملہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔اگر در خانه کس است حرفے بس است۔( محرره 14 ستمبر 1961ء) روزنامه الفضل ربوہ 19 ستمبر 1961ء) ایک ضروری تشریحی نوٹ مولوی عبد المنان صاحب کا خط اور میری طرف سے اس کا جواب کچھ عرصہ ہوا میرا ایک مضمون الفضل میں ”پیغام صلح کے ایک ایسے مضمون کے جواب میں چھپا تھا جو ایک صاحب سبط نور“ کا لکھا ہوا تھا۔میں نے اس ہتک آمیز مضمون کا جواب لکھتے ہوئے اپنے مضمون میں اس خیال کا بھی اظہار کیا تھا کہ غالباً پیغام مسلح والا مضمون حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے کسی بچے یا عزیز کا لکھا ہوا ہے۔اس پر مجھے مولوی عبدالمنان صاحب عمر کا ایک رجسٹر ڈ خط موصول ہوا کہ پیغام صلح والا مضمون ان کا یا ان کے کسی عزیز کا لکھا ہوا نہیں۔چنانچہ میں نے ان کا یہ بریت والا نوٹ الفضل میں بھجوا دیا اور خود انہیں بھی ایک رجسٹر ڈ خط کے ذریعہ اطلاع کر دی۔اس پر بعض دوستوں کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ بعض شر پسند لوگ اس خط و کتابت کے متعلق غلط فہمی پھیلا رہے ہیں اور اس بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائی ہو رہی ہے۔سو دوستوں کی اطلاع کے لئے ذیل میں مولوی عبد المنان صاحب کا خط اور اپنا جواب شائع کیا جارہا ہے تا کہ دوست متعلقہ کوائف کے متعلق از خود اندازہ لگا سکیں اور کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔ذیل میں پہلے مولوی عبدالمنان صاحب کا خط