مضامین بشیر (جلد 4) — Page 238
مضامین بشیر جلد چهارم 238 خاص تشویشناک پہلو پیدا ہوا ہے۔معلوم نہیں پاکستان ٹائمنز کے نمائندے نے کس غرض سے یہ خبر چھپوائی ہے بہر حال احباب جماعت مطمئن رہیں اور اس خبر کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور بدستور دعاؤں میں لگے رہیں۔( محررہ 20 جولائی 1961 ء )۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 22 جولا ئی 1961ء) اپنے لئے دوستوں سے دعا کی تحریک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنے علاج کے لئے لاہور جانے سے قبل الفضل میں دعائیہ درخواست کا اعلان شائع کروایا جس میں تحریر فرمایا:۔۔۔۔۔احباب کرام میری صحت کے لئے درددل سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ جو شافی مطلق ہے خدمتِ دین بجالانے والی صحت اور کام کی زندگی عطا کرے۔جب سے میں نے تریسٹھ سال کی عمر سے تجاوز کیا ہے اب میں خدا کے فضل سے اڑسٹھ سال سے چند ماہ اوپر ہوں ) میرے دل پر بوجھ رہنے لگ گیا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم والی عمر پالی مگر ابھی تک حقیقی طور پر نیک اعمال کا خانہ بڑی حد تک خالی ہے۔اگر تھوڑی بہت نیکیاں ہیں تو وہ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا نتیجہ اور آپ کا پاک ورثہ ہیں مگر کمزوریاں سب کی سب میری اپنی کمائی ہیں اور یہ کوئی ایسی پونچی نہیں جو خدا کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہو۔پس مخلص احباب اپنی دعاؤں سے میری نصرت فرمائیں کہ میری بقیہ زندگی نیکی اور خدمت دین میں کئے اور انجام خدا کی رضا کے ماتحت اچھا ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 28 جولائی 1961 ء )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 30 جولائی 1961 ء) بھائیو! اپنے مستقبل پر نظر رکھو اور اپنی اولاد کی فکر کرو یہ کوئی مضمون نہیں بلکہ بستر پر لیٹے لیٹے یا سہارے سے بیٹھے بیٹھے اپنے مخلص بھائیوں کے نام ایک درد مند دل کی نصیحت ہے جس کا مخاطب سب سے پہلے میرا اپنا نفس ہے اور اس کے بعد ہمارے خاندان کے