مضامین بشیر (جلد 4) — Page 234
مضامین بشیر جلد چهارم 234 اسی تعلق میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ نظارت امور عامہ کو لکھا جائے کہ اگر کسی احمدی خاتون کے متعلق یہ ثابت ہو کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق پر دے نہیں کرتی تو انہیں سمجھانے اور ہوشیار کرنے کے بعد ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ایسا ہی اگر معلوم ہو کہ کوئی احمدی والد یا احمدی خاوند اپنی بچیوں اور بیوی کو پردہ نہیں کراتا یا اس معاملہ میں اصلاحی قدم نہیں اٹھاتا تو ایک دفعہ ہوشیار کرنے کے بعد اس کے متعلق بھی مناسب کارروائی کی جائے۔(5) صدر انجمن احمدیہ کو تاکیدی توجہ دلائی جائے کہ وہ بنگال کی جماعت دور کے علاقہ کی جماعت ہونے کی وجہ سے اصلاح وارشاد اور تربیت کے لحاظ سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے اس لئے کوشش کی جائے کہ بنگال میں مزید مربی مقرر ہوں۔نیز سال میں کم از کم دو دفعہ دوعلماء کا وفد بنگال بھیجا جائے جو ایک وقت میں ایک مہینہ تک بنگال کی مختلف جماعتوں کا دورہ کر کے بیداری پیدا کرے۔اجلاس مورخہ 2 جولائی 1961ء (1) محسوس کیا گیا ہے کہ امور عامہ کے شعبہ رشتہ ناطہ میں بڑی اصلاح اور توجہ کی ضرورت ہے۔اس کی وجہ سے جماعت کے ایک طبقہ میں بے چینی اور تشویش پیدا ہو رہی ہے۔صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کو لکھا جائے کہ اس کے لئے کوئی زیادہ مناسب اور موزوں شخص جو اس کام کی زیادہ اہلیت رکھتا ہو مقرر فرمائیں۔(2) دوران اجلاس یہ تجویز کی گئی کہ اگر خدانخواستہ کسی جگہ دو احمدی فریقوں میں جھگڑا ہو تو امیر کو ایسی صورت میں بالکل غیر جانبدار رہنا چاہئے اور وہ کسی فریق کی طرف داری نہ کرے بلکہ حالات کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اصلاح کی کوشش کرے۔(3) تجویز ہوئی کہ صدر انجمن احمد یہ اور مجلس تحریک جدید کے صیغہ جات کا گاہے گاہے حسابی آڈٹ کے علاوہ کارکردگی کے لحاظ سے بھی معائنہ ہوتا رہنا چاہئے جو صد رصاحب صدر انجمن احمد یہ اور ناظر صاحب اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ کے صیغوں کے متعلق اور وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید کے صیغوں کے متعلق کیا کریں اور حتی الوسع کوشش کی جائے کہ کم از کم تین ماہ میں ایک بار ہر صیغہ کا معائنہ ہو جائے۔(4) لاہور کے مختلف کالجوں میں اس وقت بڑی بھاری تعداد احمدی طلباء کی موجود رہتی ہے جو بعض صورتوں میں مختلف کالجوں کے ہوسٹلوں میں اور بعض صورتوں میں پرائیویٹ گھروں میں رہائش رکھتے ہیں اور انہیں وہ اخلاقی اور دینی ماحول میسر نہیں آتا جو نو جوانی کی عمر میں احمدی نوجوانوں کے لئے نہایت