مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 235 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 235

مضامین بشیر جلد چهارم 235 ضروری ہے۔اس لئے صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کو لکھا جائے کہ وہ اس معاملہ میں ابتدائی سروے کرا کے اور خرچ اور انتظامی پہلوؤں پر غور کر کے اگر ممکن ہو تو لاہور میں احمد یہ ہوٹل کے اجراء کے لئے آئندہ مجلس مشاورت میں یہ معاملہ پیش کریں۔(5) اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ربوہ کے مقیم لوگوں کے لئے عموماً اور مہمانوں کے لئے خصوصاً مسجد مبارک ربوہ میں عصر کی نماز کے بعد روزانہ (باستثناء جمعہ کے ) قرآن مجید کے ایک رکوع کا با قاعدہ درس ہونا چاہئے۔اس کے لئے فی الحال مولوی جلال الدین صاحب شمس کو مقرر کیا جائے اور ان کی غیر حاضری میں کوئی اور مناسب عالم درس دیا کریں تا کہ قرآن کا درس بغیر ناغہ کے جاری رہے اور یہ درس ربوہ کی زندگی کا ایک اہم اور دلکش پہلو بن جائے۔(محررہ 5 جولائی 1961ء) روزنامه الفضل ربوہ 8 جولائی 1961ء) 23 ربوہ کے زنانہ اور مردانہ سکولوں کا نتیجہ 28 چند دن ہوئے میٹرک کے نتیجے کا اعلان ہوا تھا جس کی تفصیل الفضل مؤرخہ 6 جولائی اور 8 جولائی میں چھپ چکی ہے۔ہمارے لڑکوں کے ہائی سکول کا نتیجہ 65۔6 فیصد نکلا ہے اور لڑکیوں کے سکول کا نتیجہ 54۔4 رہا ہے۔اس پر الفضل میں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ بورڈ کے مجموعی تناسب سے یہ نتیجہ بہتر ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ بورڈ کے مجموعی تناسب سے یہ دونوں نتیجے بہتر ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نتیجہ ہمارے لئے خوشی یا فخر کا موجب سمجھا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ دونوں نتیجے نہ تو ہمارے گزشتہ تیجوں کے مقابل پر بہتر ہیں اور نہ ملک کے مشہور نامور سکولوں کے مقابل پر کسی طرح بہتر سمجھے جا سکتے ہیں۔پس یہ خوشی کا مقام نہیں بلکہ فکر کا مقام ہے اور ہمارے سکولوں کے افسروں کو غور اور مشورہ کر کے اپنے نتیجوں کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔الفضل کا بھی فرض تھا کہ جھوٹی خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے ان سکولوں کے ذمہ دار افسروں کو اس نقص کی طرف توجہ دلاتا تا کہ آئندہ اصلاح کی طرف قدم اٹھتا۔بورڈ کے نتیجے سے بہتر ہونا کوئی خاص خوبی کی بات نہیں بلکہ خوبی یہ ہے کہ ہمارے سکولوں کے نتائج ہر سال بہتر سے بہتر ہوتے جائیں اور ملک کے بہترین سکولوں کے مقابلہ میں بھی نمایاں رہیں۔میرا خیال ہے کہ ہمارے سکولوں کے لئے بحیثیت مجموعی