مضامین بشیر (جلد 4) — Page 233
مضامین بشیر جلد چہارم 233 دیں کہ مساجد احمدیہ کی برکات اور استفادہ کو صرف پانچ وقت تک محدودنہ رکھا جائے بلکہ مرکز میں اور بیرونی مساجد میں بھی علمی ترقی اور روحانی اور اخلاقی تربیت کی غرض سے جہاں تک ممکن ہو اور مقامی حالات اجازت دیں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جائے۔خصوصاً درس قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور درس کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سلسلہ ضرور حتی الوسع ہر احمد یہ مسجد میں جاری کیا جانا چاہئے۔(2) جو مبلغین تحریک جدید رخصت پر بیرون ممالک سے مرکز واپس آتے ہیں اگر رخصت گزار نے کے بعد وہ پاسپورٹ اور ویزا وغیرہ کے حصول کے انتظار میں کچھ وقت بے کارر ہیں (جیسا کہ بعض اوقات ہوتا ہے ) تو ایسے مبلغوں کو ان کی بے کاری کے زمانہ میں اگر ان کے لئے تحریک جدید میں کام نہ ہو تو صیغہ اصلاح وارشاد صدر انجمن احمد یہ یا صیغہ وقف جدید کی طرف عارضی طور پر منتقل کر کے ان سے مفید کام لیا جائے۔اس عرصہ میں وہ تنخواہ بدستور تحریک جدید سے لیں گے مگر سفر خرچ وغیرہ وہ صیغہ ادا کرے گا جس کی طرف وہ عارضی طور پر منتقل ہوں گے۔ہیں یعنی : (3) تجویز کی گئی کہ چونکہ معلوم ہوا ہے کہ میاں غلام محمد صاحب اختر کے سپر داس وقت بہت سے صیغے الف نظارت دیوان ج نظارت تجارت نظارت زراعت و: نظارت علیا خانی اور یہ سارے کام اگر کما حقہ کئے جائیں تو ایک افسر کی طاقت سے زیادہ ہیں اس لئے صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کو بورڈ کی طرف سے لکھا جائے کہ کام کو بہتر صورت دینے کے لئے بہتر ہوگا کہ اختر صاحب سے نظارت علیا اور نظارت زراعت کا کام لے لیا جائے اور صرف باقی دو صیغے ان کے پاس رہیں۔(4) نظارت اصلاح و ارشاد کو توجہ دلائی جائے کہ بعض بیرونی رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے کہ بعض کمزور طبیعت کی احمدی مستورات میں اسلامی تعلیم کے خلاف بے پردگی کی طرف رجحان پیدا ہو رہا ہے اس کے لئے بار بار پردے کے مسائل کو الفضل و دیگر اخبارات ورسائل وغیرہ کے ذریعہ تکرار کے ساتھ واضح کر کے اصلاح کرائی جائے۔