مضامین بشیر (جلد 4) — Page 227
مضامین بشیر جلد چهارم 227 دفعہ چند سال ہوئے ربوہ میں ہوئی تھی جس کے ساتھ ہی کئی ماہ تک پیرا ٹائیفائیڈ رہا تھا جو ایک ملکی قسم کا تپ محرقہ ہوتا ہے اور اب یہ ہیٹ سٹروک کا تیسرا حملہ ہے جس کے ساتھ 1/2-99 کے قریب بخار بھی رہتا ہے اور سر اور کنپٹیوں اور آنکھوں اور گردن کے پٹھوں میں شدید در درہتا ہے اور طبیعت میں بے چینی کا بھی غلبہ ہے۔جیسا کہ میں اپنے ایک سابقہ نوٹ میں لکھ چکا ہوں گزشتہ 20 اپریل کے دن یہ خاکسار اڑسٹھ کا ہو گیا تھا اور میری طبیعت پر اس خیال کا بہت بھاری اثر ہے کہ جس مسلمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کی عمر پالی یعنی شمسی حساب سے وہ ساڑھے اکسٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا وہ خدا کے خاص امتحان کے نیچے ہے کیونکہ خدا اس سے پوچھ سکتا ہے کہ جب میرے نبی نے ساڑھے اکسٹھ سال کی عمر میں ایک دنیا میں عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا تو بتا کہ تو اس عمر میں کیا پونچی کما کر لایا ہے؟ سواے میرے آسمانی آقا! تو اس عاجز پر رحم فرما اور اے دوستو ! تم اس خاکسار کو جو سب احباب کے لئے دعا گو ہے اپنی دردمندانہ دعاؤں میں یا درکھو کہ اس عاجز کی زندگی مفید اور بے لوث ہو اور انجام بخیر - آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - ( محررہ 9 جون 1961 ء ) (روز نامه الفضل ربوہ 11 جون 1961 ء ) وقف ایکٹ اور جماعت احمدیہ کے محاصل حکومت اور انصاف پسند پبلک کی توجہ کے لئے (1) کچھ عرصہ سے بعض مخالف عناصر یہ سوال اٹھارہے ہیں اور اس سوال کو اٹھا اٹھا کر حکومت کے محکمہ متعلقہ کو جماعت احمدیہ کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب پاکستان کی بہت سی ایسی وقف جائیدادوں کو اپنی تحویل میں لیا جا رہا ہے جو خانقاہوں اور مزاروں اور مسجدوں وغیرہ کے ساتھ وابستہ ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ جماعت احمدیہ کے جماعتی محاصل اور جماعتی جائیداد کو بھی اپنے قبضے میں لے کر اس کا اسی طرح انتظام کرے جس طرح کہ مزاروں اور خانقاہوں اور مسجدوں وغیرہ کی جائیدادوں اور محاصل کا انتظام کیا جا رہا ہے۔(2) یہ سوال مختلف لوگوں کی طرف سے اٹھایا جا رہا ہے اور غلط واقعات اور غلط حالات پیش کر کے نہ صرف جماعت کے خلاف ناگوار پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے بلکہ حکومت کے بالا افسروں کے دلوں میں بھی بدظنی