مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 226

مضامین بشیر جلد چهارم 226 اسی لئے اکثر فقہاء نے ایک گھر کو بلکہ بعض نے تو قربانی کے لحاظ سے ایک خاندان کو ایک ہی یونٹ قرار دیا ہے۔(کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ) اس کے علاوہ بھی ظاہر ہے کہ قربانی کے ایام میں جانوروں کو عام تجارتی رنگ میں ذبح کرنے کا سلسلہ رک جاتا ہے اور گوشت کی دکانیں عملاً بند ہو جاتی ہیں کیونکہ گوشت کھانے والا طبقہ یا تو خود قربانی کر کے اپنے لئے گوشت مہیا کر لیتا ہے اور یا اسے اس کے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسایوں کی طرف سے گوشت کا ہدیہ پہنچ جاتا ہے۔پس اگر ایک طرف عید کے ایام میں قربانی زیادہ ہوتی ہے تو دوسری طرف ان ایام میں عام جانوروں کے ذبح کا سلسلہ کم بھی ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ فرق زیادہ نہیں رہتا۔( روزنامہ الفضل ربوہ 21 مئی 1961ء) اَذْهِب الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي بعض دوست اپنے خطوں میں دریافت کرتے رہتے ہیں کہ اب اتم مظفر احمد کی طبیعت کیسی ہے اور ساتھ ہی اس خاکسار کی صحت کے متعلق بھی پوچھتے رہتے ہیں۔سو ان دوستوں اور دیگر ہمدرد دوستوں کی اطلاع کے لئے لکھتا ہوں کہ اتم مظفر احمد کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کا جوڑ تو خدا کے فضل سے مل چکا ہوا ہے مگر اس لمبی بیماری کی وجہ سے کمزوری اتنی بڑھ گئی ہے کہ ابھی تک ان میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں آئی اور دو خادمات کے سہارے سے انہیں چند قدم چلا کر کمرے سے باہر اور پھر باہر سے اندر لایا جاتا ہے اور اتنی سی کوفت بھی ان کے لئے بڑی تکلیف کا موجب ہوتی ہے۔دوست اس عاجزہ مریضہ کو جس کی مرض پر اب قریباً چھ سال ہونے کو آئے ہیں اپنی مخلصانہ دعاؤں میں یا درکھیں۔ان کی بیماری لازم میری صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔علاوہ ازیں خود میں بھی اپنی صحت میں کچھ عرصہ سے کافی انحطاط محسوس کرتا ہوں اور جسم کی طاقت اور اس کے ساتھ ہی دل و دماغ کی طاقت میں کمی آرہی ہے اور اب میں اتنی محنت نہیں کر سکتا جو پہلے کر سکتا تھا اور جلد تھک جاتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کو یاد کر کے کچھ تلی پاتا ہوں کہ : ھے جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے یہ تو عام جسمانی حالت کا ذکر ہے لیکن ان دنوں میں مجھے ” ہیٹ سٹروک“ نے خاص طور پر نڈھال کر رکھا ہے۔اس سے قبل مجھے دو دفعہ ہیٹ سٹروک ہو چکی ہے۔ایک دفعہ قادیان میں ہوئی تھی اور اس کے بعد دوسری