مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 221 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 221

مضامین بشیر جلد چهارم 221 کہ کیا عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی قربانی کرتے تھے اور آپ کی اتباع میں صحابہ بھی کرتے تھے۔اس شخص نے اپنے سوال کو پھر دو ہرایا اور کہا کہ قربانی واجب ہے؟ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میری بات سمجھ نہیں سکتے ؟ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی قربانی کیا کرتے تھے اور آپ کی اتباع میں دوسرے مسلمان بھی کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام صرف ذاتی شوق کی خاطر یا دوستوں اور غریبوں کو گوشت کھلانے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ آپ اسے ایک دینی کام سمجھتے اور بھاری ثواب کا موجب خیال فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ : عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الَا ضَاحِيٌّ قَالَ سُنَّةُ أَبْيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا فَمَالَنَا فِيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ (ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب ثواب الاضحیۃ ) یعنی زید بن ارقم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ عید الاضحی کی قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہارے جد امجد ابرہیم کی جاری کی ہوئی سنت ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ پھر ہمارے لئے اس میں کیا فائدہ کی بات ہے؟ آپ نے فرمایا کہ قربانی کے جانور کے جسم کا ہر بال قربانی کرنے والے کے لئے ایک نیکی ہے جو اسے خدا سے اجر پانے کا مستحق بنائے گی۔اس سے بڑھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید کی قربانیوں کے متعلق فرماتے تھے کہ : مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ (سنن الترمذی کتاب الاضاحي عن رسول اللہ باب ما جاء في فضل الاضحية ) یعنی خدا کی نظر میں عید الاضحیٰ والے دن انسان کا کوئی عمل قربانی کے جانور کو ذبح کرنے اور اس کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔اس حدیث میں خون بہانے“ کے الفاظ میں جانی قربانی کی اہمیت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ایک اور موقع پر آپ نے نہ صرف اپنی طرف سے قربانی کی بلکہ مزید تحریک اور تاکید کی غرض سے اپنی امت