مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 220 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 220

مضامین بشیر جلد چہارم 220 قربان کر رہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ دو دنبوں کی قربانی کیسی ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے ( آپ کی وفات کے بعد بھی) قربانی کرتا رہوں۔سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔عید الاضحی کے دن قربانی کرنا آپ کا ذاتی فعل ہی نہیں تھا بلکہ آپ اپنے صحابہ کو بھی اس کی تحریک فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ: عَنِ الْبَراء قالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلَّى ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُتَّتَنَا۔(صحیح بخاری، کتاب العیدین ، باب التكبير الى العيد ) یعنی حضرت براء روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ اس دن پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ انسان عید کی نماز ادا کرے اور پھر اس کے بعد قربانی دے۔سوجس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا۔اوپر کی حدیث میں ایک طرح سنت کا لفظ بھی آگیا ہے اور چونکہ یہ اصطلاحی طور پر استعمال نہیں اس لئے اس سے وجوب کا پہلو بھی مراد ہو سکتا ہے اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا کہ: مَنْ وَجَدَ سَعَةٌ فَلَمْ يُضَحٌ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ( مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابة، مسندابی هریرة رضی اللہ عنہ ) یعنی جس شخص کو مالی لحاظ سے توفیق حاصل ہو اور پھر بھی وہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی نہ کرے اس کا کیا کام ہے کہ ہماری عید گاہ میں آکر نماز میں شامل ہو؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد جس تاکید کا حامل ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر دوسرے ارشاد کو مقبولیت کی برکت حاصل ہوئی اسی طرح اس ارشاد کو بھی صحابہ کرام نے اپنا حرز جان بنایا۔چنانچہ حدیث میں لکھا ہے کہ: عَنْ جَبَلَةَ بنِ سُحَيْمٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْأَضْحِيَّةِ أَوَاجِبَةٌ هِبَى فَقَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْقِلُ ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ ترندی کتاب الاضاحي عن رسول اللہ باب الدليل على ان الاضحية سنة ) یعنی جبلہ ابن قیم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے دریافت کیا