مضامین بشیر (جلد 4) — Page 219
مضامین بشیر جلد چہارم 219 رکھنی چاہئے کہ اگر واجب یا ضروری کا سوال ہو تو غیر حاجی تو در کنار حاجیوں پر بھی ہر صورت میں قربانی واجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے شریعت نے بعض خاص شرطیں لگائی ہیں۔مثلاً خالی حج کرنے والے جو اصطلاحاً افراد کہلاتا ہے قربانی واجب نہیں بلکہ صرف اس صورت میں واجب ہے کہ وہ نہ تو حج اور عمرہ کو ایک ہی وقت میں جمع کرنے والا ہو جسے اسلامی اصطلاح میں تمتع یا قران کہتے ہیں ( قرآن شریف سورۃ بقرۃ آیت 97) اور یا وہ ایسے حاجی پر واجب ہے جو حج کی نیت سے نکلے مگر پھر حج کی تکمیل سے پہلے کسی حقیقی مجبوری کی بناء پر حج ادا کرنے سے محروم ہو جائے (سورۃ بقرۃ آیت 197) اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے قربانی کی طاقت رکھتا ہو ورنہ وہ قربانی کی بجائے روزہ کا کفارہ پیش کر سکتا ہے۔پس جب ہر حالت میں حاجیوں کے لئے بھی قربانی فرض نہیں تو یہ کس طرح دعوی کیا جاسکتا ہے کہ غیر حاجیوں کے لئے وہ بہر صورت فرض یا واجب ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے شک قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے مستطیع لوگوں کے لئے قربانی واجب نہ سہی مگر کیا وہ ایسے طاقت رکھنے والے مستطیع لوگوں کے لئے واجب ہے جو غیر حاجی ہوں؟ سو اس سوال کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض یا واجب یا سنت وغیرہ کی فقہی اصطلاحیں استعمال نہیں کیں۔مگر صحیح احادیث سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عیدالاضحی کے موقع پر خود بھی قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشَرَ سِنِينَ يُضَحِبُي نر مندی کتاب الاضاحي عن رسول اللہ باب الدليل على أن الاضحية سنة ) یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال گزارے اور آپ نے ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر مدینہ میں قربانی کی۔بلکہ آپ کو عید الاضحیٰ کی قربانی کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے وفات سے قبل اپنے داما داور چازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ میرے بعد بھی میری طرف سے عید الاضحی کے موقع پر ہمیشہ قربانی کرتے رہنا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ: عَنْ حَنَشِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِيُى بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا قَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أَضَحِيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحَى عَنْهُ (سنن ابی داؤ د کتاب الضحايا باب الاضحیة عن الميت ) یعنی منش روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر دود نے