مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 218 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 218

مضامین بشیر جلد چهارم 218 عید الضحی ( صبح کے وقت کی عید ) کہتا ہوا سنائی دیتا ہے اور اس افسوس ناک غلطی سے اچھے پڑھے لکھے لوگ حتی کہ بعض اخباروں کے نامہ نگار اور ایڈیٹر صاحبان بھی مستی نہیں۔بھلا جولوگ اپنی قربانیوں والی عید کے نام سے قربانی کا لفظ تک حذف کر کے اسے وقف طاق نسیاں کر چکے ہوں وہ اس کی قربانی والی عبادت کو کس طرح یا درکھ سکتے ہیں؟ حالانکہ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے یہ نام خود ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا رکھا ہوا ہے۔(ابوداؤد بحوالہ مشکوۃ کتاب العیدین) (5) یہ دلچسپ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے ( گو شاید اکثر لوگ اسے نہیں جانتے ) کہ عیدالاضحی کی نما زصرف غیر حاجیوں کے لئے مقرر ہے اور حاجیوں کے لئے مقرر ہیں اور نہ یہ نماز حج میں ادا کی جاتی ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ حج خود اپنے اندر ایک بھاری عید ہے کیونکہ اس میں عید کے چاروں عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔یعنی (الف) عبادت (ب) مومنوں کا اجتماع ( ج ) خوشی (د) عود یعنی اس دن کا بار بارلوٹ کر آنا۔اس لئے شریعت نے عید الاضحی کی نماز صرف غیر حاجی مقیم لوگوں کے واسطے رکھی ہے تا کہ جہاں ایک طرف حج کے ایام میں حاجی لوگ حج کی عید منارہے ہوں وہاں غیر حاجی جنہیں کسی مجبوری کی وجہ سے حج کی توفیق نہیں مل سکی وہ اکناف عالم میں اپنی اپنی جگہ پر عید کر کے اور قربانیاں دے کر اس عظیم الشان قربانی کی یاد کو تازہ رکھیں۔جس کا حضرت ابرا ہیم کے ہاتھوں سے حضرت اسماعیل کے وجود میں آغاز ہوا اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں اپنے معراج کو پہنچی۔پس حدیث میں جہاں کہیں بھی عید الاضحی کی نماز کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی قربانی کا ذکر آتا ہے وہاں لازماً غیر حاجیوں کی قربانی سمجھی جائے گی۔عید الاضحی کی قربانی کے عقبی منظر میں اوپر کی پانچ باتیں اتنی نمایاں اور اتنی واضح ہیں اور ان کی تائید میں ایسے روشن اور قطعی ثبوت موجود ہیں کہ کوئی شخص جو اسلامی تعلیم سے تھوڑی بہت واقفیت بھی رکھتا ہو وہ خواہ کسی فرقہ کا ہو ان کے انکار کی جرات نہیں کر سکتا اور اسی لئے میں نے ان باتوں کی تائید میں حوالے اور شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔لیکن اگر کوئی شخص انکار کرے تو خدا کے فضل سے ان پانچ باتوں میں سے ہر بات کے متعلق یقینی اور نا قابلِ تردید ثبوت پیش کئے جاسکتے ہیں۔کیا عید الاضحی کی قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے؟ اس کے بعد میں اصل سوال کو لیتا ہوں۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا عیدالاضحی کے موقع پر غیر حاجیوں کے لئے بھی قربانی واجب ہے اور اگر واجب ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ یاد