مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 203

مضامین بشیر جلد چہارم 203 سکتا ہے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔پس جن دوستوں نے ضرور عید کارڈ بھجوانے ہوں انہیں چاہئے کہ اس قسم کے تبلیغی اور تربیتی عید کارڈ چھپوا کر استعمال کریں ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس قسم کی عید کارڈوں کی موجودہ رسم ایک وباء بن کر رہ جائے گی۔(محرره 16 مارچ 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 18 مارچ 1961ء)۔۔۔۔۔۔۔رمضان کے آخری عشرہ کی پُر سوز اجتماعی دعائیں ماہ رمضان میں اور خصوصاً اعتکاف کے ایام میں بعض بزرگانِ سلسلہ کی خدمت میں احباب جماعت کی طرف سے بہت سے خطوط دعا کے لئے موصول ہوئے جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔یہ خطوط نہ صرف پاکستان کے احمدی احباب کی طرف سے تھے بلکہ بعض ان میں سے بھارت اور مشرق و مغربی افریقہ اور انگلستان وغیرہ بیرونی ممالک سے آئے تھے۔آخری عشرہ میں ان احباب کو جو مسجد مبارک میں معتکف تھے دعا کی یہ درخواستیں سنائی جاتی رہیں اور بالخصوص 29 رمضان المبارک 1380 ھ مطابق 17 مارچ 1961 ء کو نماز جمعہ میں ان سب کے لئے خصوصیت سے دعا کی گئی۔چونکہ جمعہ اور اجتماعی دعا کے دیگر مواقع پر قلتِ وقت کے باعث ان سب درخواستوں کو سنانا مشکل تھا اس لئے 29 رمضان المبارک کو مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ان سب خطوط میں بیان کردہ ضروریات اور مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے خطبہ جمعہ کے دوران نہایت جامع الفاظ میں دعا کی جس میں مسجد میں حاضر ہزاروں احباب آمین کہتے رہے۔بعد ازاں نماز جمعہ کی دوسری رکعت کے قیام میں اور آخری دو سجدوں میں بھی در دوسوز کے ساتھ دعائیں کی گئیں۔دوسری رکعت کے قیام میں جب ہزاروں ہزار نمازی مکرم شمس صاحب کی اقتداء میں یہ مسنون دعائیں پڑھ رہے تھے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے اسی حالت میں ایک نظارہ دیکھا۔بعد میں حضرت میاں صاحب نے مکرم شمس صاحب کے نام ایک والہ نامہ میں اس نظارہ کا ذکر کرتے ہوئے رقم فرمایا: " آج جب جمعہ کی دوسری رکعت کے قیام میں آپ نے دعائیں کیں تو میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ میرے سامنے ایک خاص قسم کی روشنی اور چمک پیدا ہوئی ہے۔سو میں خدا کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ انشاء