مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 202 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 202

202 مضامین بشیر جلد چهارم والے دوست عبادت اور دعا اور روحانی غذا کی خالص نیت سے آئیں اور اپنے میزبان بھائیوں کی کمزوریوں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ ان اجتماعی خوبیوں کی طرف نگاہ رکھیں جن سے مرکز کا رمضان خدا کے فضل و کرم سے معمور ہوتا ہے۔(محررہ 10 مارچ 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوه 14 مارچ 1961 ء )۔۔۔۔۔۔عید کارڈ کا ایک عمدہ استعمال آج کل عید کے موقع پر دوستوں اور عزیزوں کو عید مبارک کے کارڈ بھجوانے کی رسم عام ہوگئی ہے بلکہ شائد ضرورت سے زیادہ عام ہوگئی ہے۔میں اس رسم کو کلیتہ بڑا نہیں کہتا کیونکہ اس کے ذریعہ سے عزیزوں اور دوستوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور دوسرے نیک لوگوں کے دلوں میں دعا کی تحریک بھی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ اس معاملہ میں ضیاع اور فضول خرچی کا رنگ نہ اختیار کیا جائے اور نہ ہی ایسے عید کارڈ بھیجے جائیں جو حسنِ اخلاق کے خلاف یا فضول نوعیت کے ہوں۔علاوہ اس طریق میں زیادہ انہماک بھی مناسب نہیں کیونکہ آہستہ آہستہ یہ باتیں ترقی کر کے نہ صرف محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہیں بلکہ فضول خرچی اور روپیہ کے نقصان کا موجب بھی ہو جاتی ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کراچی کی جماعت نے عید مبارک کے جو کارڈ چھپوائے ہیں وہ صرف عید مبارک اور محبت کی یاد کو تازہ کرنے والے ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعہ ایک بہت عمدہ تبلیغی فائدہ بھی اٹھایا گیا ہے کیونکہ اس عید کارڈ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک ایسی نظم اور نثر کا اقتباس درج کیا گیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے اعلیٰ اخلاق اور کمالات کا مظہر ہے۔علاوہ ازیں اس عید اعلیٰ کارڈ میں ایک بیرونی مسجد کی تصویر بھی دی گئی ہے جو جماعت احمدیہ کے ذریعہ ایک افریقی ملک میں تعمیر کروائی گئی ہے اور اس کی اشاعت بھی نیک تحریک کا موجب ہوسکتی ہے۔اگر دوسری جماعتیں اور دوسرے دوست بھی جنہیں عید کارڈوں کا شوق ہوا اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے اس قسم کے عید کارڈ چھپوائیں تو خدا کے فضل سے اس کے ذریعہ دوہرا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔یعنی محبت کا اظہار اور یاد کو تازہ کرنے کے علاوہ اس قسم کے عید کارڈ سے دینی اور تبلیغی اور تربیتی فائدہ بھی حاصل کیا جا