مضامین بشیر (جلد 4) — Page 196
مضامین بشیر جلد چهارم 196 فدیہ کی رقوم کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور جزائے خیر دے میں اس موقع پر پھر احباب کرام کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اصل چیز تو روزہ ہے جو مومنوں کے لئے بے شمار برکتوں کا موجب ہوتا ہے مگر ہمارے آسمانی آقا نے اپنی از لی حکمت اور رحمت کے ماتحت بیماروں او رمسافروں کو یہ رعایت دی ہے کہ اگر وہ روزہ نہ رکھ سکیں تو اپنے کھانے کی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کو کھانا کھلا دیں یا نقدی کی صورت میں فدیہ ادا کر دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جو دوست اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ حقیقی عذر کی بناء پر روزہ کی بجائے فدیہ کا طریق اختیار کرتے ہیں وہ انشاء اللہ ثواب سے محروم نہیں رہیں گے اور نیتوں کا علم خدا کو ہے۔میں اسی رمضان میں سب بھائیوں اور بہنوں کے لئے دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور میرے اہل وعیال کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں گے اور دعاؤں میں دین کے پہلو کو ہمیشہ مقدم رکھا کریں گے۔میں نے تو جب بھی اپنے لئے یا اپنے عزیزوں کے لئے یا دوستوں کے لئے دعا کی ہے تو اس میں لازماً دین کے پہلو کو مقدم رکھا ہے۔( محرره 28 فروری 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوه 30 فروری 1961ء) 0 بعض خاص دعاؤں کی تحریک اور نو جوانوں کی تربیت کا قومی منصوبہ رمضان کا مبارک مہینہ گزر رہا ہے اور اس کا آخری عشرہ بالکل قریب آ گیا ہے۔یہ عشرہ گویا رمضان کا نچوڑ ہے جبکہ مومنوں کے مسلسل روزوں اور نفلوں اور تلاوت قرآن پاک اور صدقہ و خیرات کی وجہ سے گویا خدا زمین کے قریب اتر آتا ہے اور اپنے مخلص بندوں کی دعاؤں کو زیادہ سنتا اور زیادہ رحم اور عفو و کرم کی طرف مائل ہوتا ہے۔اسی لئے اس عشرہ میں لیلتہ القدر رکھی گئی ہے جو دعاؤں کی قبولیت کی خاص رات ہے۔حدیث میں حضرت عائشہ اس عشرہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ : شَدَّ مِثْزِرَهُ وَ أَحْيِىٰ لَيْلَهُ