مضامین بشیر (جلد 4) — Page 183
مضامین بشیر جلد چهارم 183 پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا کہ اگر خدا نے اپنے کسی خاص الخاص تصرف سے اپنے پیارے بندے ابراہیم کے لئے دشمنوں کی لگائی ہوئی آگ کو سچ سچ ٹھنڈا کر دیا ہو تو اس میں ہرگز کوئی تعجب کی بات نہیں۔حضرت مسیح موعود تو خدا کے مامور و مُرسل تھے یہ صداقت تو وہ ہے جسے امتِ محمدیہ کے اکثر سمجھدار لوگوں نے برملا سلیم کیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے اس موقع پر صرف ایک حقیقت اور ایک فلسفہ کا ہی اظہار نہیں فرمایا بلکہ ایک ربانی مصلح اور ذاتی مشاہدہ سے مشرف انسان کی حیثیت میں بڑے وثوق اور جلال کے ساتھ یہ بھی فرمایا۔احباب غور سے سنیں کس شان سے فرماتے ہیں کہ : حضرت ابرا ہیم کا زمانہ تو گزر چکا اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں۔ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھے خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہوگی۔“ چنانچہ اسی حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ایک نظم میں بھی فرماتے ہیں: ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے (سیرۃ المہدی روایت 147) ( تتمه حقیقة الوحی) لیکن اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی صراحت فرمائی کہ ہمارا یہ کام نہیں کہ مداریوں کی طرح خود آگ جلا کر اس میں داخل ہونے کا تماشہ دکھاتے پھریں اور خدا کا امتحان کریں۔خدا کا امتحان کرنا اس کے ماموروں کی شان سے بعید ہے اور سنتِ انبیاء کے سراسر خلاف۔ہاں اگر دشمن خود از راہ عداوت ہمیں آگ میں ڈالے تو ہم پر ضرور آگ ٹھنڈی ہوگی اور خدا ہمیں اس کے ضرر سے بچائے گا۔(سیرۃ المہدی روایت 39 اور وایت 147 ) کاش ہماری جماعت کے لوگ ایمان میں ترقی کریں اور خدا کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق اس حد تک بڑھا ئیں کہ ان کے لئے بھی خدائی غیرت جوش میں آتی رہے اور وہ نہ صرف دشمنوں کی شرارت سے محفوظ رہیں بلکہ نصرت الہی کے پھریرے اُڑاتے ہوئے ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتے جائیں اور دنیا کے لئے روشنی اور ہدایت کا موجب بنیں۔27 ایک طرف تو حضرت مسیح موعود کو خدائی نصرت پر بھروسہ تھا کہ آگ میں پڑ کر سلامت نکل آنے کا