مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 184 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 184

مضامین بشیر جلد چهارم 184 یقین رکھتے تھے مگر دوسری طرف خدا کے رستہ میں ہر قربانی کے لئے اتنے تیار تھے کہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو راحت سمجھتے تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم روایت کرتے ہیں کہ جس دن سپرنٹنڈنٹ پولیس حضرت مسیح موعود کی مکان کی تلاشی کے لئے اچانک قادیان آیا اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعود کے پاس بھاگے گئے اور غلبہ رقت کی وجہ سے بڑی مشکل کے ساتھ عرض کیا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ہتھکڑیاں لے کر آرہا ہے۔حضرت مسیح موعود اس وقت اپنی کتاب ” نور القرآن“ تصنیف فرما رہے تھے۔سر اُٹھا کر مسکراتے ہوئے فرمایا: ” میر صاحب! لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں ہم سمجھیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔“ پھر ذرا تامل کے ساتھ فرمایا: مگر ایسا نہیں ہوگا۔خدا تعالیٰ کی حکومت اپنے خاص مصالح رکھتی ہے وہ اپنے خلفائے مامورین کے لئے اس قسم کی رسوائی پسند نہیں کرتا۔“ الحکم جلد 3 نمبر 24 صفحہ 1 و2 بحوالہ ملفوظات جلداول) اللہ اللہ ! کیا شان دلربائی ہے کہ ایک طرف اتنی قربانی کے مسکراتے ہوئے خدا کے رستہ میں ہتھکڑی پہننے کے لئے تیار ہیں اور دوسری طرف خدا کی نصرت پر ایسا بھروسہ کہ پولیس ہتھکڑیاں لے کر دروازے پر کھڑی ہے اور کس بے اعتنائی سے فرماتے ہیں کہ : ”ایسا نہیں ہوگا۔میرا خدا مجھے اس رسوائی سے بچائے گا“ +28 اس موقع پر مجھے حضرت مسیح موعود کے بے نظیر تو کل کا ایک اور واقعہ بھی یاد آیا۔یہی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں کہ ایک مجلس میں تو کل کی بات چل پڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں۔جب سخت جس ہوتا ہے اور گرمی کمال هد ت کو پہنچتی ہے تو لوگ وثوق سے بارش کی امید رکھتے ہیں۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کوخالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔“