مضامین بشیر (جلد 4) — Page 180
مضامین بشیر جلد چهارم 180 اپنی بعثت کے لحاظ سے جلالی شان کے حامل تھے جن کے نور کی زبر دست کرنوں نے عرب کے وسیع ملک کو گویا آنکھ جھپکنے میں بت پرستی کی ظلمت سے نکال کر تو حید کی تیز روشنی سے منور کر دیا۔لیکن آپ کا آخری خلیفہ اور اسلام کا خاتم الخلفاء یعنی مسیح محمدی جمال کی چادر میں لپٹا ہوا آیا۔چنانچہ آپ اپنی مشہور نظم میں جس میں آپ نے محبت الہی کے کرشموں کا ذکر کیا ہے فرماتے ہیں: آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کر دی که ازیں خاک نمایاں کر دی یعنی لوگ تو مسیح کا ٹھکا نہ آسمان بتاتے ہیں اور اس کے نزول کے منتظر ہیں۔لیکن اے محبت الہی ! تیرا یہ کمال ہے کہ تو نے مجھے خاک کے پتلے کو زمین میں سے ہی ظاہر کر کے مسیحیت کے مقام پر پہنچا دیا ہے۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فلسفہ سلوک تمام کا تمام محبت کے محور کے ارد گرد گھومتا ہے۔خدا سے محبت، رسول سے محبت، مخلوق سے محبت ، عزیزوں سے محبت، ہمسائیوں سے محبت ، دوستوں سے محبت ، دشمنوں سے محبت، افراد سے محبت ، قوموں سے محبت ، خدا تک پہنچنے کا رستہ محبت اور پھر اپنے اصلاحی پروگرام کا مرکزی نقطہ بھی محبت۔چنانچہ حولہ بالاظم میں محبت کے گن گاتے ہوئے کس جذ بہ کے ساتھ فرماتے ہیں: اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی ذره را تو بیک جلوه گنی چوں خورشید اے بسا خاک کہ تو چوں مہ تاباں کردی جانِ خود کس نه دهد بهر کس از صدق و صفا راست اینست که این جنس تو ارزاں کردی تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساس کردی آن مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی که ازیں خاک نمایاں کردی گو حقیقت یہ ہے کہ آپ میں جلال و جمال کی ایسی دل آویز آمیزش تھی کہ آپ کے جمال و جلال میں فرق کرنا مشکل ہے۔منہ