مضامین بشیر (جلد 4) — Page 177
مضامین بشیر جلد چهارم 177 اور اس کے منہ سے کچھ خوف کی آواز بھی نکلی لیکن وہ سنبھل گیا اور پھر زیادہ زور کے ساتھ توجہ ڈالنی شروع کی۔اس پر اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشا مسجد سے بھاگتا ہوا نیچے اتر گیا۔اس کے ساتھی اور بعض دوسرے لوگ بھی اس کے پیچھے گئے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا۔جب اس کے ہوش ٹھکانے لگے تو بعد میں اس نے بیان کیا کہ میں علم توجہ کا بڑا ماہر ہوں۔میں نے ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر توجہ ڈال کر ان سے مجلس میں کوئی نازیبا حرکت کراؤں۔مگر جب میں نے ان پر توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک شیر کھڑا ہے۔میں اسے اپنا وہم قرار دے کر سنبھل گیا اور پھر دوبارہ توجہ ڈالنی شروع کی۔اس پر میں نے دیکھا کہ وہ شیر میری طرف بڑھ رہا ہے جس سے میرا بدن لرز گیا۔مگر میں نے پھر اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری توجہ مجتمع کر کے اور اپنا سارا زور لگا کر مرزا صاحب پر توجہ ڈالی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ شیر خوفناک صورت میں مجھ پر اس طرح حملہ آور ہوا ہے کہ گویا مجھے ختم کرنا چاہتا ہے جس پر میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی اور میں مسجد سے بھاگ اٹھا۔(سیرت المہدی روایت 75۔یہی روایت بعد میں کسی قدراختلاف کے ساتھ تفسیر کبیر سورۂ شعراء زیر آیت 34 میں بھی بیان ہوئی ہے) حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرمایا کرتے ہیں کہ اس کے بعد وہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بہت معتقد ہو گیا اور جب تک زندہ رہا ہمیشہ بڑی عقیدت کے رنگ میں حضور کے ساتھ خط و کتابت رکھتا رہا اور وہ بیان کرتا تھا کہ مرزا صاحب بڑے خدا رسیدہ بزرگ ہیں جن کے سامنے میری ہینوٹزم کی طاقت بے کار ثابت ہوئی۔اس روایت کے تعلق میں ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ علم توجہ یعنی پہنو نزم دنیا کے علموں میں سے ایک لطیف علم ہے جس کا بنیادی ملکہ انسانی فطرت کے اندر قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔مگر یہ ملکہ عموما مخفی اور مستور رہتا ہے۔البتہ اسے مناسب مشق کے ذریعہ بیدار کیا جاسکتا اور بڑھایا جا سکتا ہے اور بعض لوگ جن کی قوت ارادی زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور ان کے اندر توجہ جمانے یعنی کنسٹریشن (Concentration) کا مادہ زیادہ پختہ ہوتا ہے وہ لمبی مشق کے ذریعہ اس ملکہ میں کافی ترقی کر لیتے ہیں۔لیکن بعض مثالیں ایسی بھی دیکھی گئی ہیں کہ بعض لوگوں میں بلکہ شاذ کے طور پر بعض نو عمر بچوں تک میں یہ ملکہ قدرتی طور پر بھی بیدار ہوتا ہے اور وہ کسی قسم کی مشق کے بغیر ہی غیر شعوری رنگ میں توجہ جمانے اور اس کے اثرات پیدا کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں۔مگر ایسی قدرتی حالت اگر اسے مشق کے ذریعہ قائم نہ رکھا جائے بالعموم جلد زائل ہو جاتی ہے بلکہ یہ فطری ملکہ بعض جانوروں تک میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ سانپوں کی بعض اقسام اپنی