مضامین بشیر (جلد 4) — Page 176
مضامین بشیر جلد چهارم 176 پہلو بہ پہلو ر ہتے ہوئے آخر وقت تک آپ کی مخالفت پر جما رہا اور عذاب کے نشان کا طالب ہو کر یہی کہتا ہوا مرگیا کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔اس سے ظاہر ہے کہ اگر انسان کی اپنی آنکھیں بند ہوں تو اس کے لئے سورج کی روشنی بھی بیکار ہو کر رہ جاتی ہے۔حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے: حسن زبصرہ۔بلال از جش۔صہیب از روم زخاک مکہ ابوجہل۔ایں چہ بوا مجھی ست! یعنی یہ عجیب قدرت خداوندی ہے کہ حسن نے بصرہ سے آکر اور بلال نے حبشہ میں پیدا ہو کر اور صہیب نے روم سے اٹھ کر رسول پاک کو قبول کر لیا مگر ابو جہل مکہ کی خاک میں جنم لینے کے باوجو دصداقت سے محروم رہا! پس جو لوگ خدائی نور سے منور ہونا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھیں ورنہ ہزار سورج کی روشنی بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں کے متعلق کس حسرت کے ساتھ فرماتا ہے کہ : يَا حَسْرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ (يس: 23) یعنی ہائے افسوس لوگوں پر کہ کوئی رسول بھی ایسا نہیں آیا کہ حتی کہ ہمارا خاتم النبیین بھی ) انہوں نے اس کا انکار کر کے اس پر ہنسی نہ اڑائی ہو۔*23 حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمدخلیفۃالمسیح الثانی نے ایک دفعہ مجھ سے بیان کیا اور بعض اوقات مجلس میں بھی بیان فرماتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک ہند و جو گجرات کا رہنے والا تھا ایک برات کے ساتھ قادیان آیا۔یہ شخص علم توجہ یعنی پینو ٹزم (Hypnotism) کا بڑا ماہر تھا۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس وقت ہم لوگ اتفاق سے قادیان آئے ہوئے ہیں چلو مرزا صاحب سے بھی ملتے چلیں۔اس کا منشاء یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود پر توجہ کا اثر ڈال کر حضور سے بھری مجلس میں کوئی ایسی نازیبا حرکت کرائے جس سے لوگوں پر حضور کا روحانی اور اخلاقی اثر زائل ہو جائے۔جب وہ مسجد میں حضور سے ملا تو اس نے حضور کے سامنے بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ حضور پر اپنی توجہ کا اثر ڈالنا شروع کیا مگر حضرت مسیح موعود پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔تھوڑی دیر کے بعد اس شخص کے بدن پر کچھ لرزہ آیا