مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 173 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 173

مضامین بشیر جلد چهارم 173 مخالفت کا دائرہ بہت وسیع کر دیا ہے اور ہمیں گویا ایک عالمگیر آتش نے گھیرے میں لے لیا ہے۔کیونکہ ہر قوم ہمیں اپنا رقیب اور حریف سمجھ کر ہم پر حملہ آور ہو رہی ہے مگر انشاء اللہ یہی نظریہ بالآخر عالمگیر اخوت کی بنیاد بنے گا اور حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے نائب اور بروز حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا ایک جھنڈے کے نیچے آجائے گی۔تب مسیح محمدی کا یہ قول پورا ہوگا کہ : دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ (تذکرۃ الشہا دتين روحانی خزائن جلد 20 صفحه 67) میں شاید اپنے اصل مضمون سے کچھ ہٹ گیا ہوں۔کیونکہ میرا مضمون حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے اخلاق و عادات اور آپ کے جستہ جستہ حالات اور آپ کی مجلس کے کوائف اور آپ کے خاص خاص اقوال کے بیان کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔مگر میں اس جگہ بظا ہرا پنا رستہ چھوڑ کر بعض اصولی باتوں میں منہمک ہو گیا ہوں۔لیکن اگر غور کیا جائے تو جو باتیں میں نے کی ہیں ان کا میری تقریر کے موضوع کے ساتھ گہرا نفسیاتی جوڑ ہے۔کیونکہ یہ باتیں حضرت مسیح موعود کے فطری رجحان اور پاک نظریات پر بھاری روشنی ڈالتی ہیں اور اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ آپ کا قلب مطہر ایک طرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ نہایت گہرا پیوند رکھتا ہے اور دوسری طرف اس کی تاریں دنیا بھر کی مخلوق کو اس طرح اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں کہ کوئی فرقہ اور کوئی طبقہ اور کوئی گروہ ان کے مخلصانہ اور محبانہ ارتباط سے باہر نہیں رہا۔آپ نے سچائی کی خاطر ہر قوم کی دشمنی سہیری۔مگر باوجود اس کے ہر قوم سے دلی محبت کی اور اپنے بے لوث اخلاص کو کمال تک پہنچا دیا۔مگر ضروری ہے کہ میں اپنے مضمون کے ابتدائی حصہ کی طرح بعض جزوی پہلو بھی بیان کروں تا کہ اصول کے ساتھ جزیات کی چاشنی بھی قائم رہے اور میں اب انہی کی طرف پھر دوبارہ رجوع کرتا ہوں۔21 غالباً 16-1915ء کی بات ہے کہ قادیان میں آل انڈیا بینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر ایچ۔اے والٹر تشریف لائے۔ان کے ساتھ لاہور کے ایف سی کالج کے وائس پرنسپل مسٹر لوکاس بھی تھے۔مسٹر واٹر ایک کٹر سیمی تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق ایک کتاب لکھ کر شائع کر نا چاہتے تھے۔جب وہ قادیان آئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملے اور تحریک احمدیت کے متعلق بہت سے سوالات کرتے رہے اور دورانِ گفتگو میں کچھ بحث کا سارنگ بھی پیدا ہو گیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے