مضامین بشیر (جلد 4) — Page 174
مضامین بشیر جلد چهارم 174 قادیان کے مختلف ادارہ جات کا معائنہ بھی کیا اور بالآخر مسٹر والٹر نے خواہش ظاہر کی کہ میں بائی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحبت یافتہ عقیدت مند کو دیکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ قادیان کی مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک قدیم اور فدائی صحابی منشی محمد اروڑا صاحب سے ان کی ملاقات کرائی گئی۔اس وقت منشی صاحب مرحوم کے انتظار میں مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔رسمی تعارف کے بعد مسٹر والٹر نے منشی صاحب موصوف سے دریافت کیا کہ: آپ مرزا صاحب کو کب سے جانتے ہیں اور آپ نے ان کو کس دلیل سے مانا اور ان کی کس بات نے آپ پر زیادہ اثر کیا؟“ منشی صاحب نے جواب میں بڑی سادگی سے فرمایا: میں حضرت مرزا صاحب کو ان کے دعوئی سے پہلے کا جانتا ہوں۔میں نے ایسا پاک اور نورانی انسان کوئی نہیں دیکھا۔ان کا نور اور ان کی مقناطیسی شخصیت ہی میرے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ہم تو ان کے منہ کے بھوکے تھے۔“ یہ کہہ کر حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود کی یاد میں بے چین ہو کر اس طرح رونے لگے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ یہ نظارہ دیکھ کر ان کا رنگ سفید پڑ گیا تھا اور وہ محو حیرت ہو کر منشی صاحب موصوف کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہے اور ان کے دل میں منشی صاحب کی اس سادہ سی بات کا اتنا اثر تھا کہ بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ” احمد یہ موومنٹ میں اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر کیا اور لکھا کہ: مرزا صاحب کو ہم غلطی خوردہ کہہ سکتے ہیں مگر جس شخص کی صحبت نے اپنے مریدوں پر ایسا گہرا اثر پیدا ہم مگر کی کیا ہے اسے ہم دھو کے باز ہر گز نہیں کہہ سکتے۔“ احمدیہ موومنٹ مصنفہ مسٹرا بیچ۔اے والٹر ) دراصل اگر انسان کی نیت صاف ہو اور اس کے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوں تو بسا اوقات ایک پاک باز شخص کے چہرہ کی ایک جھلک یا اس کے منہ کی ایک بات ہی انسان کے دل کو منور کرنے کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔انبیاء اور اولیاء کی تاریخ ایسی باتوں سے معمور ہے کہ ایک شخص مخالفت کے جذبات لے کر آیا اور پھر پہلی نظر میں ہی یا پہلے فقرہ پر ہی گھائل ہو کر رہ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں :