مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 172 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 172

مضامین بشیر جلد چهارم 172 طرف سے روح القدس اُترتا تھا۔وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور باقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت سی باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228-229) اسی طرح آپ نے ہندوستان کے ایک اور بڑے مگر جدید مذہبی بزرگ اور سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا نانک علیہ الرحمۃ کی نیکی اور ولایت کو بھی تسلیم کیا اور اس بات کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ حضرت بابا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلی معترف تھے اور انہوں نے ہندو قوم میں اپنے مخصوص صوفیانہ طریق پر نیکی اور پاکبازی اور اخلاق حسنہ اور روحانیت کے پھیلانے کی کوشش کی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں: باوانا تک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عز وجل اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے۔بلا شبہ با دانا نک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی جس نے اس نفرت کو دور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی۔“ +20% پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 445-446) اسی طرح قرآن کے مندرجہ بالا زریں اصول کے ماتحت جماعت احمد یہ اپنے مقدس بانی کی اقتداء میں چین کے کنفیوشس اور ایران کے زرتشت اور ہندوستان کے دوسرے مذہبی پیشوا گوتم بدھ کی بزرگی کو بھی فی الجملہ تسلیم کرتی اور ان کے متعلق محبت وعقیدت کے جذبات رکھتی ہے۔در حقیقت قرآنی تصریح کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی یہ بھی تعلیم تھی کہ جس مذہبی پیشوا اور مامور الہی کو لاکھوں کروڑوں انسانوں نے قبول کر لیا اور ان کی صداقت دنیا میں قائم ہو کر وسیع علاقہ میں پھیل گئی اور راسخ ہوگئی اور غیر معمولی طور پر لمبے زمانہ تک ان کی مقبولیت کا سلسلہ چلتا چلا گیا اس کے متعلق قرآنی صراحت کے علاوہ عقلاً بھی یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ ان کی اصل ضرور حق و صداقت پر مبنی تھی۔کیونکہ ایک جھوٹے اور مفتری انسان کو کبھی بھی ایسی غیر معمولی قبولیت حاصل نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود کی اس بے نظیر تعلیم نے جماعت احمدیہ کے نظریات میں گویا ایک انقلابی صورت پیدا کر کے دنیا میں ایک عالمگیر امن اور آشتی کی بنیاد قائم کر دی ہے۔بیشک فی الحال اس نظریہ نے ہماری