مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 171 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 171

مضامین بشیر جلد چہارم 171 اعلان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ کس تحدّی سے فرماتے ہیں: ”اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس (خدا) کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا اور گی۔ہے نامرادر کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔۔۔دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بو یا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ 66 19 ( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66-67) دوسرے نبیوں کی نبوت تو سب مسلمانوں میں مسلم ہی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت یعقوب اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام کے سامنے تمام مسلمانوں کی گردنیں عزت و احترام کے ساتھ جھکتی ہیں لیکن اس قرآنی اصول کے مطابق کہ خدا تعالیٰ نے ہر ملک وقوم میں مختلف وقتوں میں اپنے رسول بھیجے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی انکشاف کے ماتحت ہندوستان کے مشہور قدیم مصلح حضرت کرشن کی نبوت کو بھی تسلیم کیا اور انہیں ایک پاکباز خدا رسیدہ بزرگ کے طور پر پیش کیا جو قرآنی زمانہ سے پہلے خدا کا ایک سچا نبی اور اوتار تھا۔اور اس طرح آپ نے الہی منشاء کے مطابق ایک اور بڑی قوم کو عالمگیر روحانی اخوت کے دائرہ میں کھینچ لیا۔بیشک کرشن جی کو ماننے والے لوگ اس وقت یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کے انکار کی وجہ سے ہدایت کے رستہ کو چھوڑ چکے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار صراحت فرمائی ہے کہ اس مذہب کی اصل صداقت پر قائم تھی اور کرشن خدا تعالیٰ کا ایک برحق رسول تھا جو قدیم زمانہ میں آریہ ورت کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں: راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ( خدا کی طرف سے) ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی ریشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی