مضامین بشیر (جلد 4) — Page 170
مضامین بشیر جلد چهارم 170 سے ایک نے آپ کے مقابل پر از راہ افتراء ایک جھوٹی پیشگوئی کا بھی اعلان کیا اور ادھر خدا نے فوراً ان سب کو طاعون میں مبتلا کر کے ایک دو دن میں ہی ان کا خاتمہ کر دیا اور خدا کا یہ شاندار وعدہ بڑے آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ: كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِى (المجادله : 22) یعنی خدا نے یہ بات مقدر کر رکھی ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر غالب آئیں گے۔18% لیکن اس عجیب و غریب دوہرے سین (Scene) کے باوجود جس میں ایک طرف انتہائی مخالفت کا نظارہ ہے اور دوسری انتہائی غلبہ کا منظر ہے۔حضرت مسیح موعود نے ہر قوم کے لئے صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھایا اور ہر مذہب وملت کے بانی کو انتہائی عزت و اکرام سے یاد کیا۔بلکہ آپ نے عالمگیر امن اور صلح کی بنیا درکھتے ہوئے قرآن مجید سے یہ زرین اصول استدلال کر کے پیش کیا کہ چونکہ خدا ساری دنیا کا خدا ہے اس لئے اس نے کسی قوم سے بھی سوتیلے بیٹوں والا سلوک نہیں کیا۔بلکہ ہر قوم کی طرف رسول بھیجے اور ہر طبقہ کی ہدایت کا سامان مہیا کیا۔چنانچہ قرآن واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ: وَإِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: 25) یعنی دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس کی طرف خدا نے کوئی مصلح نہ بھیجا ہو لیکن خدا کی وحدانیت کا یہ تقاضا تھا کہ جب مختلف قوموں میں ترقی کا شعور پیدا ہو جائے اور ان کے دماغی قومی پختگی حاصل کرنے لگیں اور ایک عالمگیر شریعت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کا زمانہ آجائے اور دنیا کی منتشر قوموں کو ایک دوسرے کی طرف حرکت پیدا ہو اور رسل و رسائل کے وسائل بھی وسیع ہونے شروع ہو جائیں تو پھر حضرت افضل الرسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک دائمی اور عالمگیر شریعت نازل کر کے اور بالآخر آپ کے نائب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اس شریعت کی دنیا بھر میں اشاعت کرا کے ساری قوموں کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع کیا جائے تا جس طرح دنیا کا خدا ایک ہے اس کا رسول بھی ایک ہو اور اس کی شریعت بھی ایک۔اور ایسا ہو کہ مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کی قومی اور ملکی تہذیب و تمدن کے جزوی اختلاف کے باوجود ان کا مرکزی نقطہ ایک رہے اور اخوت کی تاریں ساری دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اس معاملے میں ایک زبر دست پیشگوئی کا