مضامین بشیر (جلد 4) — Page 167
مضامین بشیر جلد چہارم 167 سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے دوسرے دن اپنے کلاس فیلو کا نام لینے کے بغیر مگر اس کے سامنے اپنے انگریز پروفیسر سے پوچھا کہ اگر کسی شخص کو دیوانہ کتا کاٹ لے اور اس کے نتیجہ میں اسے بیماری کا حملہ ہو جائے تو کیا اس کا بھی کوئی علاج ہے؟ پر و فیسر صاحب نے چھٹتے ہی جواب دیا کہ: Nothing on earth can save him۔یعنی اسے دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی اس جگہ یا درکھنا چاہئے کہ معجزہ کے یہ معنی نہیں کہ کسی زمانہ اور کسی قسم کے حالات میں بھی کوئی انسان اس جیسا کام نہ کر سکے یا اس جیسی چیز نہ لا سکے۔بلکہ اگر ایک مخصوص زمانہ میں کوئی چیز ناممکن کبھی جاتی ہے اور اس زمانہ کا کوئی انسان اس پر قادر نہیں اور وہ اس وقت تک کے حالات کے ماتحت بشری طاقت سے بالا خیال کی جاتی ہے تو اگر ایسی بات کوئی مامور من اللہ اپنی دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ کر گزرے تو وہ یقیناً معجزہ سمجھی جائے گی خواہ بعد کے کسی زمانہ میں وہ چیز دنیا کے لئے ممکن ہی ہو جائے۔مثلاً بیماریوں کے علاج کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ (مسند احمد بن حنبل مسند الانصار حديث بريرة الاسلمی رضی اللہ عنہ ) یعنی خواہ لوگوں کو معلوم ہو یا نہ ہو۔خدا نے ہر بیماری کے لئے نیچر میں کوئی نہ کوئی علاج مقرر کر رکھا ہے۔ہاں جب کسی کی موت کا مقد روقت آجائے تو وہ اٹل ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔پس اگر آئندہ چل کر مرض ہائیڈ روفوبیا کا کوئی علاج دریافت ہو جائے تو پھر بھی حضرت مسیح موعود کے معجزہ پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے واقعی ایک معجزہ تھا جس کا جواب لانے کے لئے اس وقت کی دنیا عاجز تھی۔اس کے مقابل پر بعض منجزات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر زمانہ میں دنیا کو عاجز کر دینے کی صفت میں لاجواب رہتے ہیں۔مثلاً قرآن مجید کے ظاہری اور معنوی کمالات کا معجزہ۔اقتداری پیشگوئیوں کا معجزہ۔بالمقابل دعا کی قبولیت کا معجزہ۔ہر حال میں رسولوں کے غلبہ کا معجزہ وغیرہ وغیرہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا نے ان دونوں قسم کے معجزے عطا فرمائے۔16 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آریہ قوم کی دشمنی سب کو معلوم ہے۔اس قوم نے ہر میدان میں حضرت مسیح موعود سے شکست کھائی اور سینکڑوں نشان دیکھے مگر اپنی ازلی شفادت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود