مضامین بشیر (جلد 4) — Page 155
مضامین بشیر جلد چہارم 155 کے اس غیر معمولی صبر و استقلال اور اس غیر معمولی عزم اور اس غیر معمولی تو کل سے سبق حاصل کرنا چاہئے کہ اگر وہ بھی صبر و ثبات سے کام لیں گے اور خدا کے بندے بن کر رہیں گے اور اپنے آپ کو شمر دار پودے بنائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح حفاظت کرے گا اور ان کے لئے بھی اسی طرح غیرت دکھائے گا جس طرح کہ وہ ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کے لئے دکھاتا چلا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک پنجابی زبان میں الہام ہے اور کیا خوب الہام ہے۔خدا تعالیٰ آپ سے حد درجہ محبت کے الفاظ میں مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ: دو ” جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو ہو“ (تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 390) روحانیت کے میدان میں یہ زریں ارشاد انسان کے لئے سبق نمبر ایک کا حکم رکھتا ہے۔کاش ہماری جماعت کے بوڑھے اور نوجوان عورتیں اور مرد اس حقیقت کو اپنا حرز جان بنائیں کہ خدا داری چه غم داری۔7% حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں اطاعت رسول کا بھی نہایت زبر دست جذ بہ تھا۔اور آپ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اپنے آقا کی اتباع میں لذت پاتے اور اس کا غیر معمولی خیال رکھتے تھے۔چنانچہ میں اس موقع پر دو بظاہر بہت معمولی سے واقعات بیان کرتا ہوں کیونکہ انسان کا کیریکٹر زیادہ تر چھوٹی باتوں میں ہی ظاہر ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ آپ مولوی کرم دین والے تکلیف دہ فوجداری مقدمہ کے تعلق میں گورداسپور تشریف لے گئے تھے اور وہ سخت گرمی کا موسم تھا اور رات کا وقت تھا۔آپ کے آرام کے لئے مکان کی کھلی چھت پر چارپائی بچھائی گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سونے کی غرض سے چھت پر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے۔آپ نے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے پردہ اور بے منڈیر کی چھت پرسونے سے منع فرمایا ہے۔“ (سيرة المهدی) چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے گرمی کی انتہائی شدت کے باوجود نیچے کے مسقف کمرے میں سونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں سوئے۔آپ کا یہ فعل اس وجہ سے نہیں تھا کہ پردہ کے