مضامین بشیر (جلد 4) — Page 146
مضامین بشیر جلد چهارم 146 2 وو دُرٌ مَنْثُورُ ( یعنی چند بکھرے ہوئے موتی ) جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ 1960 ء کے مبارک موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مؤرخہ 27 دسمبر کو صبح کے اجلاس میں محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی زیر صدارت ذکرِ حبیب“ کے موضوع پر جو ایمان افروز ، روح پرور اور وجد آفرین تقریر ارشاد فرمائی تھی ذیل میں اس کا مکمل متن ہدیہ احباب کیا جا رہا ہے۔(ادارہ) أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرُسُولُهُ۔گزشتہ سال کے سالانہ جلسہ میں جو دسمبر 1959 ء کی بجائے جنوری 1960ء میں منعقد ہوا تھا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی سیرت کے بعض پہلوؤں پر ایک مضمون پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔یہ ضمون جو بعد میں ”سیرت طیبہ کے نام سے چھپ چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے تین بنیادی پہلوؤں سے تعلق رکھتا تھا۔یعنی (اول) محبت الہی ( دوم ) عشق رسول اور ( سوم ) شفقت علی خلق اللہ۔اور یہی وہ تین اوصاف ہیں جو ایک سچے مسلمان کے دین و مذہب کی جان اور اس کے اخلاق حسنہ کی بلند ترین چوٹی کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔اس سال مجھے پھر مرکزی جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کے منتظمین نے ذکر حبیب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت کے متعلق کچھ بیان کرنے کی دعوت دی ہے۔اور گواس سال کا آخری نصف حصہ میری رفیق حیات اتم مظفر احمد کی طویل اور تشویشناک بیماری کی وجہ سے میرے لئے کافی پریشانی میں گزرا ہے اور ان کی تیمارداری کی وجہ سے مجھے کئی ماہ تک ربوہ سے لاہور میں ٹھہر نا پڑا ہے اور بعض دوسری پریشانیاں بھی رہیں مگر میں نے ان روکوں کے باوجود ناظر صاحب اصلاح وارشاد کی دعوت کو اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے ہوئے اسے قبول کر لیا۔اور اب اپنے دوستوں کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و اخلاق کے چند پہلو پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میری گزشتہ سال کی تقریر حضرت مسیح موعود کی سیرت کے تین مخصوص بنیادی پہلوؤں سے تعلق رکھتی تھی جنہیں اپنے با ہمی ربط کی وجہ سے ہم گویا تین لڑیوں والی مالا کا نام دے سکتے ہیں۔لیکن اس سال میں حضرت مسیح موعود کے اخلاق و عادات کے چند متفرق اور گویا غیر مربوط