مضامین بشیر (جلد 4) — Page 137
مضامین بشیر جلد چهارم 137 چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے اور دوسری صدمہ کی بات یہ ہے کہ اپنے پیچھے کوئی نرینہ اولاد نہیں چھوڑی مگر کیا ان کے سینکڑوں شاگردان رشید ان کی روحانی اولاد نہیں ہیں؟ آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا تھا اور لمبے عرصہ تک صاحب فراش رہے مگر ہمت کا یہ عالم تھا کہ کسی قدر تخفیف ہوئی۔پھر درس تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا مگر افسوس ہے کہ فالج کے دوسرے حملہ کے بعد دوبارہ نہ اُٹھ سکے۔حافظہ غضب کا تھا اور قرآن مجید تو خیر حفظ ہی تھا حدیث اور فقہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے اکثر حوالے بھی ازبر تھے۔اگر حضرت خلیفہ اسح اوّل رضی اللہ عنہ کے خصوصی شاگردوں میں انہیں نمبر اول پر شمار کیا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔طبیعت میں مزاح بھی تھا اور گفتگو میں بڑی شگفتگی ہوتی تھی۔حضرت حافظ صاحب اپنے شاگردوں کے صرف استاد ہی نہیں تھے بلکہ مربی اور ہمدرد بھی تھے اور بے تکلفی کے ساتھ ان کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔اپنے تبلیغی سفروں میں ہمیشہ ایک یا دو یا زیادہ شاگر داپنے ساتھ رکھتے تھے۔یہ حضرت حافظ صاحب کے تعلیمی اور تدریسی پروگرام کا حصہ ہوتا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ساتھ حضرت حافظ صاحب کو بہت محبت تھی اور حضور بھی حضرت حافظ صاحب کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے چنانچہ 1924 ء کے سفر ولایت میں حضور ان کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اس عاجز کے ساتھ بھی حضرت حافظ صاحب کو محبت تھی اور مجھے اپنے مستحق شاگردوں کی امداد کے متعلق توجہ دلاتے رہتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ رسالہ الفرقان کے موجودہ ایڈیٹر محترم مولوی ابو العطاء صاحب کے متعلق ان کی طالب علمی کے زمانہ میں فرمایا کہ یہ نوجوان خرچ کے معاملہ میں کچھ غیر محتاط ہے مگر بڑا ہو نہار اور قابلِ توجہ اور قابل ہمدردی ہے۔کاش اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابوالعطاء صاحب اور محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے شاگردوں کے ذریعہ میری یا د زندہ ہے۔خدا بخشنے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں“۔اس عاجز کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری زمانہ اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی خلافت کا ابتدائی زمانہ جب کہ حضور اپنی صحت اور اپنی تبلیغی اور تربیتی گر مجوشی کے جو بن میں تھے اور ہم لوگوں کی طاقتیں بھی جوان اور خون گرم تھا یاد آتی ہے تو کیا بتاؤں کہ دل پر کیا گزرتی ہے۔بس یوں سمجھئے کہ