مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 122 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 122

مضامین بشیر جلد چهارم 122 ہے۔ادھر میں قریباً تین ماہ کے قیام کے بعد جلسہ کے قرب کی وجہ سے ربوہ آگیا ہوں اور اس وقت بہت سے کام در پیش ہیں۔اور میری غیر حاضری ام مظفر احمد کے لئے لاہور میں مزید بے چینی کا موجب ہو رہی ہے اور خود میں بھی ربوہ میں گویا اکھڑی ہوئی زندگی بسر کر رہا ہوں۔گو ایک سچے مومن کا حقیقی تعلق صرف خدا کے ساتھ ہوتا ہے اور وہی اس کا اصل سہارا ہے مگر انسان فطرتا دوسرے تعلقات کے اثر سے بھی آزاد نہیں ہو سکتا اور شریعت نے مومنوں پر ان کے اہلِ خانہ کا بھاری حق رکھا ہے۔پس احباب کرام اور اپنے مخلص دوستوں سے میری درخواست ہے کہ ام مظفر احمد کے لئے اور میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے صحت عطا کرے اور ہماری پریشانی دور فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ عمر کے اس آخری دور میں ایسے حالات سے محفوظ رکھے جو خدمت دین میں روک بن جاتے اور پریشانی کا موجب ہوتے ہیں اور انجام بخیر ہو۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محرره 21 نومبر 1960ء) (روزنامه الفضل ربوہ 23 نومبر 1960ء) کتاب شانِ خاتم النبین “ کے متعلق رائے خاتم حال ہی میں ایک کتاب ” شانِ خاتم النبیین مصنفہ محترمی قاضی محمد نذیر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ شائع ہوئی ہے۔دراصل یہ کتاب قاضی صاحب موصوف کی ایک تقریر کی توسیع ہے جو انہوں نے جلسہ سالانہ 1952ء کے موقع پر کی تھی اور میں نے اس تقریر کے خاتمہ پر محترم قاضی صاحب کو اس کامیاب تقریر پر مبارک باد دیتے ہوئے تحریک کی تھی کہ اگر اس تقریر کو مناسب نظر ثانی کے بعد کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے تو انشاء اللہ بہت مفید ہوگا۔اور مجھے دلی خوشی ہوئی کہ بالآخر یہ تقریر ایک مستقل رسالہ کی صورت میں شائع ہوگئی ہے۔قاضی صاحب نے اس دلچسپ اور علمی تصنیف میں حضور سرور کائنات خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت جو ایک ایسا بلند اور ارفع مقام ہے جو نہ صرف تمام دوسرے نبیوں کے لئے گل سرسبد کا حکم رکھتا ہے بلکہ حقیقتا یہ ایک عدیم المثال قدرتی آبشار ہے جس سے پانی حاصل کر کے تمام پہلی اور پچھلی نہریں روحانی کھیتوں کو سیراب کر رہی ہیں۔ضمناً اس کتاب میں یہ بحث بھی کافی صورت میں