مضامین بشیر (جلد 4) — Page 123
مضامین بشیر جلد چهارم 123 آگئی ہے کہ ختم نبوت کے مقام کا جو تصور آج کل دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے وہ اس عجیب و غریب مقام کی صحیح اور حقیقی تشریح نہیں ہے اور نہ اس میں اس غیر معمولی بلندی کا نظریہ موجود ہے جو اس عدیم المثال مقام کا مرکزی نقطہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست اس مفید رسالہ کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے میں ہاتھ بٹائیں گے۔محرره 23 دسمبر 1954 ء) روزنامه الفضل ربوہ 30 نومبر 1960ء) وو حیات بقا پوری حصہ پنجم کے متعلق ایک ضروری توضیح حضرت مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کی مرتب کردہ حیات بقا پوری حصہ پنجم کے متعلق نظارت امور عامہ ربوہ کا اعلان الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔جس میں اس کتاب کی اشاعت کو بعض وجوہات کی بناء پرفی الحال روکا گیا ہے۔مگر یہ اعلان اپنے اختصار کی وجہ سے حقیقت حال کو پوری طرح واضح نہیں کرتا۔دراصل اس کتاب میں حضرت مولوی بقا پوری صاحب نے اپنے بعض الہامات اور رؤیا اور کشوف درج فرمائے ہیں جن میں سے بہت سی باتیں ایمان افروز ہیں۔لیکن چونکہ کسی الہام یار و یا کوتحدی کے ساتھ بیان کرنا صرف انبیاءاور مامورین کا کام ہے اور دوسرے لوگوں کو بعض اوقات غلطی لگ سکتی ہے اور غلط تشریح بھی ہو سکتی ہے اور ہر خواب قابل اشاعت بھی نہیں ہوتی اس لئے اس مجموعے میں بعض ایسی باتیں درج ہو گئی ہیں جن کا درج ہونا کسی طرح مناسب نہیں تھا۔اور وہ بعض مخلص اور ممتاز خدام سلسلہ کے متعلق جن میں سے بعض وفات پا کر اپنے مولیٰ کے حضور پہنچ چکے ہیں غلط فہمی کا موجب ہو سکتی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں فتنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔حضرت مولوی بقا پوری صاحب نے وعدہ کیا ہے کہ ایسی باتوں کی نشاندہی پر اپنے اس مجموعے سے خارج کر دیں گے۔نظارت امور عامہ کو چاہئے کہ ایسی باتوں کی فہرست تیار کرا کے اصلاح کی غرض سے حضرت مولوی صاحب کو دے دے تا کہ وہ ان باتوں کو اپنے مجموعے سے خارج کر دیں۔آئندہ کے لئے بھی ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ جیسا کہ قادیان میں ہوتا تھا۔ہر کتاب کی اشاعت سے قبل اس کا مسودہ صدر انجمن احمد یہ یا انجمن تحریک جدید کے کسی مناسب عالم یا کمیٹی کے سامنے پیش کر کے منظوری حاصل کی جائے۔تاکہ کوئی قابلِ