مضامین بشیر (جلد 4) — Page 119
مضامین بشیر جلد چهارم 119 دکھایا ہم نے شائع ہوا ہے۔میں احمدی عزیزوں کو اس نوٹ کے ذریعہ دوبارہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ الفضل کے جلسہ سالانہ نمبر میں میرا یہ مضمون غور سے مطالعہ فرمائیں اور پھر حسب توفیق اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں۔جس کی طرف مجھے اپنی رویا میں توجہ دلائی گئی ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں بھی اسلام کی خدمت کا بہترین اور مؤثر ترین ذریعہ ہے۔اپنے اس مضمون میں میں نے مثال کے طور پر ستائیس عنوان بھی تجویز کر کے لکھے تھے جن پر آجکل تحقیقی مضامین لکھنے کی ضرورت ہے۔اب میں ان ستائیس عنوانوں پر ذیل کے عنوانوں کا اضافہ کرتا ہوں۔احباب ان کو سابقہ عنوانوں کے ساتھ درج کرلیں۔یہ زائد عنوان یہ ہیں۔(28) ہستی باری تعالیٰ منقولی اور معقولی طریق پر۔(29) یوم آخر اور بعث بعد الموت۔(30) جنت و دوزخ کی حقیقت۔(31) فرشتوں کا وجود اور ان کا کام۔(32) تناسخ اور اس کے مقابل پر اسلامی تعلیم۔(33) حضرت مسیح موعود کا کرشن ہونے کا دعوی۔(34) ہندوؤں میں آخری زمانہ میں ایک اوتار کی بعثت کی پیشگوئی۔(35) حضرت بابا نانک کا روحانی مقام۔قارئین کرام میرے سابقہ عنوانوں پر مندرجہ بالا آٹھ عنوانوں کا اضافہ فرمالیں۔مگر یا درکھیں کہ یہ سب عنوان صرف مثال کے طور پر ہیں اور ان پر حصر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وقت اور ماحول کی ضرورت کے مطابق جو مسئلہ بھی سامنے آئے اس کی طرف توجہ دی جائے۔مگر جو کچھ لکھا جائے تحقیقی رنگ میں لکھا جائے اور جَادِلْهُمُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) کی آیت مد نظر رہے۔(ماہنامہ خالد ر بوہ اکتوبر 1960ء)