مضامین بشیر (جلد 4) — Page 118
مضامین بشیر جلد چهارم 118 دوسرا ہاتھ رکھ کر اور اس کی انگلیاں اوپر کی طرف اٹھا کر پردہ کی عملی صورت ظاہر فرمائی ) ہاں اگر صحت اور حفاظت کے پہلو کو واجبی طور پر ملحوظ رکھتے ہوئے چہرہ کا زیادہ حصہ پردہ میں رہ سکے تو یہ بہتر ہوگا کیونکہ چہرہ بہر حال زینت کا بہترین حصہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ انصار اللہ اپنے نو جوان عزیزوں میں صحیح اسلامی پر دہ رائج کرنے اور انہیں اس پردہ پر قائم رکھنے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔تا کہ ہماری جماعت دوسرے مسلمانوں کی خلاف شریعت رو سے بہنے سے بچ جائے۔بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انصار اللہ کو صحیح معنی میں انصار اللہ بنائے۔وہ دین کے بچے خادم اور جماعت کے مخلص اور فدائی کا رکن بن کر رہیں اور ان کی نسلیں بھی دین کی خادم بنیں۔اور خدا تعالیٰ انصار کے اس اجتماع کو ہر رنگ میں مبارک اور کامیاب کرے اور ان کے مشوروں میں برکت ڈالے۔تا کہ جو دوست اس وقت یہاں جمع ہیں وہ واپس جاتے ہوئے نئی روح اور نیا ولولہ اور نئی زندگی لے کر جائیں اور جماعت کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے۔آمین یا ارحم الراحمین۔اب ہمیں مسنون طریق پر دعا بھی کر لینی چاہئے۔( محررہ 28 اکتوبر 1960ء)۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوه 3 نومبر 1960ء) ایک غیبی تحریک ہمارے نوجوان دوست توجہ فرمائیں (نوٹ۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے پہلے مقالہ بعنوان ”سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے‘ کے تنقہ کے طور پر یہ ضروری نوٹ رقم فرمایا تھا جو الفضل 2 جنوری 1959 ء میں شائع ہوا۔تھا تتمہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے مزید آٹھ عنوان تجویز فرمائے ہیں۔ادارہ ) غالباً ایک ماہ کا عرصہ ہوا میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا جس میں مجھے یہ تحریک کی گئی تھی کہ میں نوجوان احمدیوں کو تحقیقی مضامین لکھنے اور اسلام اور احمدیت کی تائید میں علمی لٹریچر تصنیف کرنے کی طرف توجہ دلاؤں چنانچہ اس کی تعمیل میں میرا ایک مضمون الفضل کے جلسہ سالانہ نمبر میں زیر عنوان ” سیف کا کام قلم سے ہے