مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 117 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 117

مضامین بشیر جلد چهارم 117 افسوس کی بات ہے۔میں یہ بات انصار اللہ سے اس لئے کہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں ) کی باگ ڈور زیادہ تر انہی کے ہاتھ میں ہے۔انہیں اس معاملہ میں اپنے بچوں کو بار بار سمجھانا چاہئے اور جس طرح ایک چوکس چرواہا اپنی بھیڑوں کو گھیر گھیر کر احاطہ کے اندر رکھتا ہے اسی طرح انصار اللہ کا فرض ہے کہ جماعت کے نوجوانوں کو سمجھانے سے اور نصیحت کرنے سے اور غیرت دلانے سے اسلامی پردہ کی حدود پر قائم رکھیں۔انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ تمہاری اس فیشن پرستی سے جماعت بدنام ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تعلیم اور تنظیم پر حرف آتا ہے اور پھر اس وجہ سے تم گنہگار بھی بنتے ہو۔اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عورتوں کو گھروں کے اندر قیدیوں کی طرح بند رکھو۔وہ جائز ضرورت سے باہر نکل سکتی ہیں اور تمام جائز کاموں میں حصہ لے سکتی ہیں۔تعلیم حاصل کر سکتی ہیں، نوکری کر سکتی ہیں، سیر و سیاحت کر سکتی ہیں۔مگر ہر حال میں پردہ کی حدود قائم رہنی ضروری ہیں۔پردہ کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ جس طرح ہر چیز کا ایک جسم ہوتا ہے اور ایک روح ہوتی ہے۔اسی طرح پر دہ کا جسم تو یہ ہے کہ اپنی قدرتی اور مصنوعی زینت کو قریبی رشتہ داروں کے سوا کسی غیر مرد پر ظاہر نہ ہونے دیا جائے۔اور پردہ کی روح غض بصر ہے یعنی غیر مردوں کے سامنے آنکھوں کو نیچا اور خوابیدہ رکھنا۔پس ان دونوں باتوں کوملحوظ رکھنا ضروری ہے۔بعض لوگ قرآنی آیت إِلَّا۔ظَهَرَ مِنْهَا ( النور : 32) کی غلط تشریح کرتے ہوئے خیال کرتے ہیں کہ عورت کا چہرہ پردہ میں شامل نہیں۔مگر یہ ایک صریح غلطی ہے جس کی کسی قرآنی آیت یا کسی حدیث میں سند نہیں ملتی۔عقلاً بھی ظاہر ہے کہ اگر چہرہ کا پردہ نہیں تو پھر پردہ کس چیز کا نام ہے۔البتہ چہرہ کا وہ حصہ جو رستہ دیکھنے کے لئے ضروری ہے یعنی آنکھ ، اور اس طرح چہرہ کا وہ حصہ جو سانس لینے کے لئے ضروری ہے یعنی ناک، وہ حسب ضرورت کھلا رکھا جاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت اپنا سر اور ما تھا اوپر کی طرف سے اور اپنے ہونٹ اور ٹھوڑی اور چہرہ کا ملحقہ حصہ نیچے کی طرف سے ڈھانک کر رکھے تو عام حالات میں منہ کا اسی قدر پردہ کافی ہے۔اسی طرح چہرہ کا وہ حصہ جو صحت اور حفاظت وغیرہ کے خیال سے کھلا رہنا ضروری ہے کھلا رہتا ہے اور پردہ بھی ہو جاتا ہے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ اگر اس قسم کا پردہ صحیح طور پر کیا جائے تو عورت پہچانی نہیں جا سکتی اور پردہ کی غرض و غایت قائم رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود اس کی شکل کچھ اس طرح بتایا کرتے تھے۔دوست اچھی طرح دیکھ کر سمجھ لیں (اس موقع پر حضرت میاں صاحب نے چہرہ کے اوپر کے حصہ پر ایک ہاتھ رکھ کر اور چہرہ کے نیچے کے حصہ پر