مضامین بشیر (جلد 4) — Page 114
مضامین بشیر جلد چهارم 114 چلی جائے۔علاوہ ازیں ان ایام میں آپ لوگوں کو جماعت کے اتحاد کا بھی خاص بلکہ خاص الخاص خیال رکھنا چاہئے۔قرآن مجید نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بنیان مرصوص کے امتیازی نام سے یاد کیا ہے۔اور بنیان مرصوص وہ ہوتی ہے جو آپس میں اس طرح پیوست ہو کہ کوئی چیز اس میں رخنہ نہ پیدا کر سکے اور یہ بات قربانی کی روح کے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ ہر حال میں میری ہی بات مانی جائے اور میری ہی رائے کو قبول کیا جائے تو یہ بدترین قسم کا تکبر ہے جو جماعت کے اتحاد کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا کہ ” سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو اس میں یہی نکتہ مد نظر ہے کہ بعض اوقات انسان کو اتحاد کی خاطر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے بھی اپنی رائے کو چھوڑنا پڑتا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ اس نکتہ کو ہمیشہ یادرکھیں۔جہاد فی سبیل اللہ کے تعلق میں آپ کا کام دو میدانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ایک میدان تبلیغ کا میدان ہے یعنی غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا اور اپنے مسلمان بھائیوں کے دلوں سے احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا۔یہ ایک بڑا نازک اور اہم کام ہے جس کے لئے آپ صاحبان کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بے اصول لوگوں نے اسلام اور احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کا ایک وسیع جال پھیلا رکھا ہے۔اس جال کے کانٹوں کو اپنے رستہ سے ہٹانا آپ لوگوں کا فرض ہے مگر اس تعلق میں اس قرآنی آیت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ: أدْعُ إِلى سَبيل رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمُ (النحل: 126) یعنی لوگوں کو نیکی کے رستہ کی طرف محبت اور حکمت اور نصیحت کے رنگ میں بلا ؤ اور ایسا طریق اختیار نہ کرو جس سے دوسروں کے دل میں نفرت اور دوری کے خیالات پیدا ہوں۔بلکہ اپنے اندر ایک ایسے روحانی مقناطیس کی کیفیت پیدا کرو جس سے سعید لوگ خود بخود آپ کی طرف کھچے چلے آئیں۔دوسرا میدان تربیت سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی اپنے آپ کو اور اپنے دوستوں کو اور سب سے بڑھ کر اپنے اہل وعیال کو اسلام اور احمدیت کی دلکش تعلیم پر قائم کرنا یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے۔بلکہ بعض لحاظ سے تبلیغ سے بھی زیادہ نازک اور اہم ہے۔جماعت جوں جوں تعداد میں بڑھتی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے بعد ہوتا جاتا ہے اس کام کی اہمیت بھی بہت بڑھتی جاتی ہے۔آپ لوگوں کو عہد کرنا چاہئے کہ