مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 103 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 103

مضامین بشیر جلد چہارم 103 ایک کمزور جنس پر جو اپنی کمزوری اور شرم کی وجہ سے والدین اور بڑے بھائیوں کے سامنے زبان نہیں کھول سکتی ایک بھیانک قسم کا ظلم روا رکھا جاتا اور اس کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔پانچویں نمبر پر یہ اکل بالباطل اور حرام خوری میں بھی داخل ہے۔کیونکہ اس ذریعہ سے والدین اور لڑکیوں کے بھائی ایک ایسا مال کھاتے ہیں جو دراصل ان کا نہیں بلکہ ان کی بیٹیوں اور بہنوں کا ہے اور وہ محض لوٹ مار کے ذریعہ اس کے مالک بن جاتے اور جائز حق داروں کو محروم کر کے ان پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔چھٹے نمبر پر یہ اپنے خون اور اپنی نسل کی بہتک بھی ہے کہ ایک باپ کے نطفہ سے پیدا ہونے اور ایک صلب سے نکلنے والی لڑکیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے کہ وہ گویا اپنے باپ کی بیٹیاں اور اپنے بھائیوں کی بہنیں ہی نہیں اور انہیں عملاً نیچ ذات کی لونڈیوں کی طرح سمجھا جائے۔حالانکہ اسلام تو وہ مبارک مذہب ہے کہ سچ سچ کے غلاموں کے لئے بھی آزادی کا پیغام لے کر آیا ہے۔الغرض لڑکیوں اور بیویوں کو ان کے جائز شرعی حق سے محروم کرنا ایک بہت بڑا گناہ بلکہ چھ گناہوں کا مجموعہ ہے اور بھاری ظلم میں داخل ہے۔اور میں تمام مخلص احمدی باپوں اور مخلص احمدی بھائیوں سے قرآنی الفاظ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ : هَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (المائدة:92) یعنی کیا اب بھی تم اس ظلم سے باز نہیں آؤ گے کہا جاتا ہے کہ لڑکیوں کو حصہ دینے سے خاندان کی جائیداد دوسرے خاندانوں میں چلی جاتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر سوچو تو مال در اصل خدا کا ہے اور انسان کا ترکہ تو خصوصیت سے خدا کا ہے۔پس جب خود خدا اسے ایک خاص رنگ میں تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے تو زید بکر عمر کوکیا حق ہے کہ اس تقسیم میں رخنہ ڈالے؟ اور پھر جب تم نے اسلام کی شریعت کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں اور احمدیت کی غلامی کو برضاور غبت قبول کر لیا اور اسلام کو خدا کی ایک نعمت جانا تو پھر یہ اب کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک صداقت کو مان کر اس پر عمل کرنے سے انکار کرو۔یہ تو ایمان نہیں بلکہ منافقت ہے کہ منہ سے ایک بات کو مانومگر اپنے عمل سے اسے دھتکار دو۔قرآن فرماتا ہے لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف: 3) - یعنی تم منہ سے ایک ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر تم عمل کرنے کو تیار نہیں ؟ بعض لوگ اس موقع پر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر خود لڑکیاں اپنی مرضی سے جائیداد کی جگہ نقد روپیہ لینے کو تیار ہوں تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر نیک نیتی سے اور پاک وصاف دل سے ایسا کیا جائے اور اس میں کوئی پہلو دھو کے اور فریب کا نہ ہو اور نہ ہی جائیداد کی قیمت لگانے میں چالا کی سے کام لیا