مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 102

مضامین بشیر جلد چهارم 102 مقدس امام اور سلسلہ احمدیہ کے بانی کو تو خدا کے حضور شرمندہ ہونے سے بچاؤ۔( کیونکہ بعض صورتوں میں خدا کے مرسلوں کو بھی اپنے متبعین کی بعض غلطیوں کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے ) میں جانتا ہوں کہ خدا کے فضل سے جماعت کا بہت بڑا حصہ دین سے محبت رکھنے والا اور احکام شریعت کو شوق و ذوق سے ادا کرنے والا ہے مگر کہتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔پس جب تک آپ اپنے میں سے ہر فرد کو اسلام کے احکام پر پختہ طور پر قائم نہیں کر دیتے یا کم از کم جب تک جماعت کی بھاری اکثریت اس مقام کو حاصل نہیں کر لیتی اس وقت تک آپ کی اجتماعی ذمہ داری ہرگز ادا شدہ نہیں سمجھی جاسکتی۔اور لڑکیوں کو ان کے جائز حق اور شرعی ورثہ سے محروم کرنا تو صرف ایک گناہ ہی نہیں ہے بلکہ کم از کم چھ سنگین گناہوں کا مجموعہ ہے۔سب سے اول نمبر پر یہ شریعت کا گناہ ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کے ایک واضح اور صریح اور قطعی حکم کی نافرمانی لازم آتی ہے۔قرآن فرماتا ہے اور کن زور دار الفاظ میں فرماتا ہے کہ: لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَن وَ الْاَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَطَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (النساء : 8) یعنی لڑکیوں کے لئے ان کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر کیا ہے خواہ یہ تر کہ زیادہ ہو یا کہ کم ہو۔اور یہ خدا کی طرف سے فرض کیا ہوا حق ہے جو بہر حال لڑکیوں کو ملنا چاہئے۔دوسرے نمبر پر حکومت کا جرم ہے۔کیونکہ کچھ عرصہ سے پاکستان کی حکومت نے یہ قانون پاس کر رکھا ہے کہ لڑکیوں کو ان کے والدین کے ترکہ میں سے (اور بیویوں کو ان کے خاوندوں کے ترکہ میں سے ) شریعت کے مطابق حصہ ملنا چاہئے۔اور چونکہ حکومت کے قانون کی پابندی اُولی الامر کے اصول کے مطابق شریعت کی رو سے بھی لازمی ہے اس لئے یہ گویادوسرا جرم بن جاتا ہے۔شریعت کا بھی اور حکومت کا بھی۔تیسرے نمبر پر یہ جماعت احمدیہ میں اپنے امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ بدعہدی بھی قرار پاتی ہے۔کیونکہ چند سال ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ کے موقع پر حاضرین جلسہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جماعت کے لوگ شریعت کے مطابق حصہ دیا کریں گے۔اور اس موقع پر جملہ حاضرین نے جو ہزا ر ہا تھے کھڑے ہو کر اپنے امام کے ساتھ اور امام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ لڑکیوں کو حصہ دیں گے۔چوتھے نمبر پر لڑکیوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا بدترین قسم کا ظلم بھی ہے۔کیونکہ اس ذریعہ سے