مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 101 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 101

مضامین بشیر جلد چهارم 101 حصہ کی قیمت کی رسید لکھا کر ہمارے بھائیوں کے نام پر روپیہ جمع کرا دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اگر یہ شکایت درست ہے ( اور میں یہ بات اگر کے لفظ کے ساتھ ہی کہہ سکتا ہوں گو بظاہر یہ شکایت درست معلوم ہوتی ہے۔وَاللهُ اَعْلَمُ ( تو بہت قابلِ افسوس اور قابل ملامت ہے۔کیونکہ لڑکیوں کو ورثہ سے محروم کرنا نہ صرف شریعتِ اسلامی کے ایک صریح اور تاکیدی حکم کے خلاف اور گناہ ہے بلکہ حکومت کا بھی جرم ہے۔جس نے کچھ عرصہ سے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی لڑکیوں کو شریعت کے مطابق حصہ دیں۔بے شک زمینداروں کو اپنی زمین بہت محبوب ہوتی ہے بلکہ اکثر زمیندار تو زمین کے ساتھ ایک گونہ عشق کا رنگ رکھتے ہیں۔اور جائز حد تک مال ہر شخص کو ہی پیارا ہوتا ہے مگر کیا اسلام اور ا۔احمدیت ہی نعوذ باللہ ایسی ناکارہ چیزیں ہیں کہ ان کے پیار کو ہر دوسری چیز پر قربان کر دیا جائے ؟ قرآن تو فرماتا ہے کہ : الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقره: 166) یعنی جو لوگ سچے مسلمان ہیں انہیں اپنے خدا اور خدا کے احکام کے ساتھ ہر دوسری چیز کے مقابل پر زیادہ محبت ہونی چاہئے۔اور دنیا کے مال اور اولاد کے متعلق خدا فرماتا ہے: اَلْمَالُ وَ الْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَالْبقِيتُ الصَّلحتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ آملاً (الكهف: 47) یعنی مال اور لڑکے (جن کی خاطر تم لڑکیوں کا حق مارتے ہو ) محض اس ورلی دنیا کی زینت ہیں۔مگر دائم اور قائم رہنے والی نیکی وہ ہے جو خدا کے حضور ثواب کا موجب اور اگلے جہان کی امید گاہ ہے۔پس اگر احمد یوں نے اسلام کو سچا اور محمد رسول اللہ کے دین کو خدا کی آخری شریعت سمجھ کر مانا ہے اور احمدیت کو خدا کی ایک رحمت یقین کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے تو ان کے لئے یہ امتحان کا وقت ہے۔یہ دنیا ایک فانی چیز ہے کیا وہ اس چند روزہ زینت کی خاطر اور اس عارضی زندگی کی نمائشی چمک کی وجہ سے خدا کی ابدی رحمت کو جواب دیں گے؟ خدا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ : يُحْيِي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ ( تذکره صفحه 55 ایڈیشن چہارم) یعنی ہمارا یہ مسیح دین کے مٹے ہوئے نشانوں کو زندہ کرے گا اور ترک شدہ شرعی احکام کو دوبارہ دنیا میں قائم کر دے گا۔پس اے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو! اگر آپ میں سے کسی کو اپنے ایمان کی شرم نہیں تو کم از کم اپنے