مضامین بشیر (جلد 4) — Page 100
مضامین بشیر جلد چهارم ہیبت ناک الفاظ میں کی گئی تھی کہ : " زار بھی ہو گا تو ہو گا اُس گھڑی باحال زار 100 (براہین احمدیہ حصہ پنجم ) اب اسلام کے دائمی غلبہ اور توحید کی سربلندی کا وقت آ رہا ہے اور دنیا خود دیکھ لے گی کہ مسٹر خروشیف کا بول پورا ہوتا ہے یا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کی فتح کا ڈنکا بجتا ہے۔بے شک ہم بے حد کمزور ہیں اور بالکل بے سروسامان۔بلکہ پہاڑ کے سامنے گویا ذرہ کے برابر بھی نہیں۔مگر اسلام کا خدا بڑا طاقت ور خدا ہے جو ہمیشہ سے كُن فَيَكُونَ کے نظارے دکھاتا چلا آیا ہے۔ہاں ہما را خدا وہی تو ہے جس نے اسلام کی نشاۃ اولی ( یعنی تکمیل ہدایت ) کے وقت عرب کے لق و دق صحرا میں بظاہر پانی کا ایک بلبلہ پیدا کر کے اس میں وہ طاقت بھر دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی زبر دست لہریں تمام معلوم دنیا پر چھا گئیں۔تو کیا اب وہ خدا اسلام کی نشاۃ ثانیہ ( یعنی تکمیل اشاعت ) کے وقت کمزوری دکھائے گا اور اپنے وعدہ کو بھول جائے گا ؟ ہر گز نہیں ہرگز نہیں۔یقیناً جو لوگ زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ الإِسْلَامُ يَعْلُوْا وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ خدا کے فضل و نصرت سے اسلام دنیا بھر میں غالب ہوکر رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہو گا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 22 جولائی 1960 ء) (روز نامہ الفضل ربوہ 28 جولائی 1960ء) ورثہ میں لڑکیوں کو حصہ دینا ضروری ہے یہ نہ صرف شریعت کا حکم ہے بلکہ سراسر انصاف و رحمت بھی ہے ایک احمدی خاتون جنہوں نے خط میں اپنا نام ظاہر نہیں کیا لکھتی ہیں کہ جماعت کے ایک حصہ میں اور یا خصوصاً زمینداروں میں لڑکیوں کو حصہ نہ دینے کی بد عادت ابھی تک چل رہی ہے۔چنانچہ اس خاتون نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میرے والد صاحب خدا کے فضل سے بظاہر مخلص اور دیندار ہیں اور صاحب جائیداد بھی ہیں بلکہ بہت معقول جائیدا در کھتے ہیں۔مگر انہوں نے مجھے اور میری بہنوں کو حصہ نہیں دیا بلکہ ہمارے